جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

انتخابات سے قبلتحریک انصاف کے ساتھ ایک اور ہاتھ لیکن پی ٹی آئی حسب معمول سوئی رہی، شہباز شریف نے آئندہ انتخابات جیتنے کے لیے ایک ایک ایم پی اے کو کتنے کتنے ہزار سرکاری نوکریوں کی بھرتی کا کوٹہ دے دیا؟سینئر صحافی رؤف کلاسرا کا ہوشربا انکشاف

datetime 22  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں سینئر صحافی و تجزیہ کار رؤف کلاسرا نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس سپریم کورٹ ثاقب نثار نے واضح طور پر حکومت کو کہا تھا کہ انتخابات سے قبل اداروں میں بھرتیاں روک دی جائیں کیونکہ انتخاب جیتنے کے لیے یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔

سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کو یہ بتاتا چلوں کہ یہ کام صرف یہاں پر ہی نہیں ہو رہا بلکہ لیہ میں بھی ہو رہا ہے۔ وہاں مجھے معلوم ہوا ہے کہ پندرہ پندرہ سو، سولہ سولہ سو درجہ چہارم کی سیٹیں ایک ایک ایم پی اے کو دے دی ہیں جو ڈپٹی کمشنر کے ذریعے بھرتیاں ہوں گی، ان کے ذریعے درجہ چہارم کی بھرتیاں شروع ہو رہی ہیں۔ جب میں لیہ گیا تو وہاں بہت سے لوگ میرے پاس آ گئے کہ آپ کوئی سفارش ڈھونڈ کر دیں۔ سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے کہا کہ میری چیف جسٹس ثاقب نثار سے گزارش ہے کہ یہ ہزاروں لاکھوں ووٹرز کو مینج کرنے کا طریقہ ہے، انہوں نے کہاکہ ہمارے ہاں دیہاتوں میں ایک گھر کے کم از کم دس ووٹ ہوتے ہیں اور رشتہ دار ملا کر پندرہ سے بیس ووٹ بن جاتے ہیں، اس طرح ان لوگوں کی جیبوں میں بیس سے پچیس ہزار ووٹ آ گئے ہیں۔ ن لیگ کے نئے بیانیے کو روکنا چاہیے، پورے ملک اور پنجاب میں اس پر چیف جسٹس صاحب کو پابندی لگانا چاہیے اور ڈیڑھ دو مہینے بعد نئے انتخابات کے بعد یہ آسامیاں مشتہر کرنا چاہئیں، سینئر صحافی رؤف کلاسرا نے کہاکہ ہمارے علاقوں میں سیاسی رشوت کا یہ کام شروع ہو چکا ہے اور تحریک انصاف کو اس پر متحرک ہوناچاہیے وہ چپ کرکے سوئے ہوئے ہیں، اس موقع پر عامر متین نے کہا کہ اپوزیشن کو ٹیک اپ کرنا چاہیے، اس سے پہلے سپریم کورٹ کے نوٹس میں ہے کہ یہ ڈویلپمنٹ فنڈز کے نام پر اس کے علاوہ اربوں روپے ایم پی اے اور ایم این ایز کو دے چکے ہیں، یہ بھی پری پول دھاندلی عام ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…