جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ملک میں 90 روز کیلئے جوڈیشل مارشل لاء لگانے کی تجویز،عمران خان کی مشاورت کے بغیر عبوری وزیراعظم کو قبول نہ کرنے کا اعلا ن کردیاگیا

datetime 21  مارچ‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے چیف جسٹس سے ملک میں جوڈیشل مارشل لا لگانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیف جسٹس کی اصل ذمہ داری نگران وزیراعظم کی تقرری ہے، ساری قوم عدلیہ کی جانب دیکھ رہی ہے، عبوری وزیر اعظم کیلئے جن ناموں پر ڈسکس ہوا وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتے،عمران خان کی مشاورت کے بغیر کوئی عبوری وزیر اعظم قبول نہیں کریں گے،

میں نے منی لانڈرنگ کی نہ ہی پاناما کیس سے کوئی تعلق ہے، میں 1974ء سے ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے کہا کہ اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ عبوری حکومت ہے، اس وقت پوری قوم کی نظریں عدلیہ کی جانب مرکوز ہیں۔ چیف جسٹس صاحب کی اصل ذمہ داری نگران وزیر اعظم کی تقرری ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ بے شک چیف جسٹس ملک میں 90 روز کیلئے جوڈیشل مارشل لاء لگا دیں لیکن یہ مارشل لاء صرف الیکشن کیلئے ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن انتشار اور خلفشار کے ماحول میں ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی ناپسندیدہ آدمی نگران وزیراعظم آ گیا الیکشن کا بھرم خاک میں مل جائے گا۔انہوں نے کہا کہ عبوری وزیرِ اعظم کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کا آنا بورڈ ہونا لازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نگران وزیراعظم کیلئے صرف خورشید شاہ نہیں، عمران خان سمیت تمام اپوزیشن پارٹیوں سے مشاورت ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اب تک جن ناموں پر ڈسکس ہوا وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔ عمران خان کی مشاورت کے بغیر کوئی عبوری وزیر اعظم قبول نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ میرا کیس سپریم کورٹ میں ہے، نواز شریف نے مجھ پر سنگین الزامات لگائے ہیں لیکن میں نے منی لانڈرنگ کی نہ ہی پاناما کیس سے کوئی تعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں 1974ء سے ٹیکس ادا کر رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف قوم کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔ ملک میں خاص قسم کی فضا بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر کوئی گیا تو ملک نہیں چلے گا۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکن ایجنڈے کے تحت کرنسی کو ڈی ویلیو کیا گیا، کوئی بعید نہیں یہ مزید ڈالر کا ریٹ بڑھائیں گے۔انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے حالیہ دورہ امریکہ پر تنقید کرتے ہوئے اسے مشکوک قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ قوم وزیر اعظم سے پوچھتی ہے امریکی شخصیات سے بغیر کسی سیکرٹری خارجہ کے کیسے ملے، ساری قوم پوچھنے کا حق رکھتی ہے کہ وزیر اعظم ملٹری سیکرٹری سمیت کسی بھی سٹاف کے بغیر کیا کرنے گئے تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…