جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

نقیب اللہ قتل کیس۔۔ اتنی سکیورٹی تو شاید کسی وزیر کو بھی میسر نہ آئی ہو گی چیف جسٹس کے حکم کے بعد حیرت انگیزصورتحال۔۔ پولیس رائو انوار کو کس جگہ لے کر پہنچ گئی، جان کر دنگ رہ جائیں گے

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم رائو انوارکی سپریم کورٹ میں جیمز بانڈ فلموں کی طرح اچانک انٹری، چیف جسٹس نے حفاظتی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے گرفتار کرنے کا حکم دیدیا، سندھ پولیس کو حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت، مقتول نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود اور محسود قبیلے کو ماورائے قانون کوئی بھی قدم نہ اٹھانے کا حکم،

چیف جسٹس نے 5رکنی جے آئی ٹی آفتاب پٹھان کی سربراہی میں تشکیل دیدی، رائو انوار کو پولیس کی بھاری نفری اور قافلے کے ہمراہ بکتر بند گاڑی میں ایس ایس پی ٹریفک کے دفتر منتقل کر دیا گیا، جلد کراچی روانگی کی اطلاعات۔ تفصیلات کے مطابق نقیب اللہ قتل کیس کے مرکزی ملزم رائو انوار کی سپریم کورٹ میں جیمز بانڈ فلموں کی طرح اچانک انٹری نے سب کو حیران کر دیا ہے۔ رائو انوار کی سپریم کورٹ میں ڈرامائی پیش ہونے کے بعد چیف جسٹس آف پاکستان نے انہیں فوری گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہوئے ان کی حفاظتی ضمانت منسوخ کر دی۔ سماعت کے دوران رائو انوار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ان کے موکل نے سپریم کورٹ کے سامنے خود کو سرنڈر کر دیا ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ رائو انوار نے سرنڈر کر کے کوئی احسان نہیں کیا۔ چیف جسٹس نے رائو انوار سے استفسار کیا کہ آپ تو بڑے دلیر تھے ، اتنے دن کہاں تھے، ہم نے آپ پر اعتماد کیا آپ نے پہلے سرنڈر کیوں نہیں کیا، ہم نے آپ پر اعتبار کیا مگر آپ پیش نہ ہوئے، چیف جسٹس نے نقیب اللہ قتل کیس کی تحقیقات کیلئےپو،لیس افسران پر مشتمل 5رکنی جے آئی ٹی آفتاب پٹھان کی سربراہی میں بنانے کا حکم دیتے ہوئے سندھ پولیس کورائو انوار کی حفاظت یقینی بنانے کی ہدایت کی جبکہ مقتول نقیب اللہ محسود کے والد محمد خان محسود اور محسود قبیلے کو ماورائے قانون کوئی بھی قدم نہ

اٹھانے کا حکم دیتے ہوئے رائو انوار کے منجمند بینک اکائونٹس بحال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سماعت ملتوی ہونے کے بعد رائو انوار کو پولیس کی بھاری نفری نے قافلے کی صورت میں بکتر بند گاڑی میں بٹھا کر ایس ایس پی ٹریفک اسلام آباد کے دفتر منتقل کر دیا ہے جہاں سے انہیں چند ہی گھنٹوں بعد کراچی منتقل کر دیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…