جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

نوازشریف کا کیس پانامہ کا تھا نااہلی اقامہ پر کی گئی،سپریم کورٹ کے جج نے کیا کچھ کہہ دیا،سابق وزیر اعظم سب سامنے لے آئے

datetime 21  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ میں اداروں کی عزت کرنے والا انسان ہوں، نااہلی سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف بولنا میرا اور میری پارٹی کا حق ہے،اب تو سپریم کورٹ کے اندر سے بھی آوازیں آرہی ہیں،پاناما کیس کے فیصلے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے جج کے ریمارکس کوئی معمولی بات نہیں، جسٹس فائز عیسیٰ نے بھی کہا کیس پاناما کا تھا اور نااہلی اقامہ پر کی گئی۔احتساب عدالت میں فلیگ شپ

انویسٹمنٹ اور العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس کی سماعت کے موقع پر میڈیا سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کے دوران نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں اداروں کی عزت کرنے والا انسان ہوں، میں نے عدلیہ کے لیے لانگ مارچ بھی کیا، لیکن جو فیصلہ آیا وہ میری اور قوم کی نظر میں ٹھیک نہیں تھا۔نواز شریف نے کہا کہ انہیں بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر نااہل کیا گیا اور وہ بھی بلیک لا ڈکشنری کا سہارا لے کر، لہذا ‘میں کیسے اس فیصلے کو قبول کرتا؟’ اب میرے خلاف توہین عدالت کیس میں فل بینچ بنادیا گیا ہے۔ عوام کی توہین ہوئی ہے وہ اپنی توہین کہاں فائل کریں۔نوازشریف نے کہا کہ پاناما کیس کے فیصلے کے حوالے سے سپریم کورٹ کے جج کے ریمارکس کوئی معمولی بات نہیں، اب تو سپریم کورٹ کے اندر سے بھی آوازیں آرہی ہیں۔ گزشتہ روز جج صاحب کے ریمارکس سب کے سامنے ہیں، جسٹس فائز نے کہا کہ کیس پاناما کا تھا اور نااہلی اقامہ پر کی گئی، جنہوں نے مجھے اقامے پر نکالا انہوں نے نیب ریفرنس بھی بناکر بھیجے۔ فیصلے دینے والوں کو سوچنا چاہئے کہ قوم کو ان کے فیصلے تسلیم نہیں۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ عمران خان نے اقبال جرم کیا پھر بھی صادق اور امین ٹھہرے، عمران خان غلطی تسلیم کررہے تھے لیکن عدالت نے کہا کہ اس طرف نہ جائیں، عمران خان

نے بھی کہا کہ پاناما کا فیصلہ کمزور فیصلہ ہے جبکہ سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کو نااہل کیا لیکن اس پر کوئی جے آئی ٹی نہیں بنائی، سپریم کورٹ نے جہانگیر ترین کے خلاف نیب ریفرنسز دائر کرنے کا بھی نہیں کہا یہ دوہرا معیار نہیں چلے گا۔نواز شریف نے شیخ رشید کا نام لئے بغیر ان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو سب پر باتیں کررہے تھے ان کا اپنا کیس سامنے آگیا ہے،انہوں نے کروڑوں روپے کی زمین چھپائی۔سابق وزیراعظم نواز شریف نے کہا

کہ ‘فیصلے اپنے منہ سے خود بولتے ہیں کہ فیصلہ کس طرح کا ہے، فیصلے دینے والے یہ بھی غور کریں کہ کیا ان کے فیصلے لوگوں کو قبول بھی ہوتے ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ‘اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ اس طرح کے فیصلے کیوں آتے ہیں؟’سابق وزیراعظم نے مزید کہا کہ یہ پاکستانی عوام کی بھی توہین ہے، وہ کہاں جاکر توہین عدالت کا کیس کریں؟اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ ‘اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کسی جج نے آپ سے

ناانصافی کی تو کیا آپ سپریم جوڈیشل کونسل جائیں گے؟جس پر نواز شریف نے کہا کہ آپ مجھے بہت اچھا آئیڈیا دے رہے ہیں، آئیڈیا دینے کا شکریہ۔اس سے قبل احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے سابق وزیراعظم نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس کی سماعت کی۔تاہم مختصر سماعت کے بعد احتساب عدالت نے ریفرنسز پر سماعت 29 مارچ تک کے لیے ملتوی کردی۔احتساب عدالت نے پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کو بھی آئندہ سماعت پر بطور گواہ طلب کرلیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…