جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

غیر ملکی اکائونٹس اور بیرون ملک جائیدادیں،پاکستان کے 100 امیر ترین افراد کی سپریم کورٹ طلبی، چیف جسٹس نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا ڈالرز کیسے غائب کئے جارہے ہیں، جسٹس ثاقب نثار نے بڑی چوری پکڑ لی

datetime 20  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)چیف جسٹس پاکستان نے بیرون ملک پاکستانیوں کے اکاؤنٹس سے متعلق کیس میں ریمارکس دیئے ہیں کہ غیر ملکی اکاؤنٹس میں رکھی گئی رقم واپس لانے کیلئے حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ منگل کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ پاکستانیوں کے غیرملکی اکاونٹس سے متعلق کیس کی سماعت کی ۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے

کہ پاکستانیوں کے بیرون ملک اکاؤنٹس ہیں ٗخیال کیا جاتا ہے ان میں بڑی رقم غیرقانونی ہے، غیرملکی اکاؤنٹس میں موجود پیسے کوواپس کیسے لانا ہے؟ پاکستانیوں کی بیرون ملک املاک بھی ہیں،کیا ان کو چھوڑ دیں؟ ان املاک کو واپس کیسے لایاجاسکتاہے؟ آرام سے کیس چلانا ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ ہم صرف حکومت کی مدد کرنا چاہتے ہیں کہ غیر ملکی اکاؤنٹس میں رکھی گئی رقم واپس لائی جائے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ بے ایمان لوگوں کوخصوصی مراعات دی جاتی ہیں ٗغیرقانونی چینل سے لوگ پیسہ باہرمنتقل کرکے قانونی طریقے سے واپس لے آتے ہیں، اوپن مارکیٹ میں ڈالرخرید کر سب کچھ پاک کرلیا جاتا ہے۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ منی چینجر کو اچھی پرسنٹیج دیں تو وہ زرمبادلہ کا بندوبست کردیتا ہے۔گورنر اسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے بیرون ممالک سے معلومات مانگی ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اسپین،ملائشیا ،دبئی، امریکا اور فرانس میں لوگوں نے املاک خرید رکھی ہیں، جن لوگوں نے یہ گتھیاں بنائی ہیں وہی انہیں سلجھائیں گے، یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ قوم کا پیسہ واپس لایا جائے۔چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اب چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ ہی رقم واپس لانے میں ہماری مدد کریں گے، ہم نے پاکستان سے بھاگ کر نہیں جانا، ہمارے بچوں کا ہم پرحق ہے بچوں کو ایسا ملک دے کر جائیں جہاں وہ خوش و خرم رہیں۔

چیف جسٹس پاکستان نے ریمارکس دیئے کیوں نہ ملک کے 100بڑے لوگوں کوعدالت بلالیں؟ ان لوگوں کو بلاکر پوچھ لیں اپنی بیرون ملک اثاثوں کی تفصیل دیں، ممکن ہے بڑے لوگ ہماری بات مان کرتفصیلات دے دیں، گورنر اسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا کہ بیرون ملک اثاثوں کی تصدیق ہوجائیگی لیکن وقت لگے گا، پوری دنیا میں ڈکلیئرڈ اثاثوں کے گرد تھیرا تنگ کیا جارہا ہے اس پر چیف جسٹس نے

استفسار کیا کہ گھیراتنگ کرنے سے آپ کی کیامراد ہے؟یہاں پاکستان میں کیسے گھیراتنگ ہوگا؟گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پورے ملک میں کرنسی کی آزادانہ نقل و حرکت ہو رہی ہے، فارن کرنسی سے متعلق قوانین میں ترمیم کی ضرورت ہے، قانون فارن کرنسی ایکسچینج چلانے والوں کیلئے بڑا نرم ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ہمارے ملک کی کرنسی گررہی ہے،

کرنسی گرنے سے بیرونی قرضوں پر بھی فرق پڑتا ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ عدالت کے نوٹس پر اب کام ہو رہا ہے۔معزز چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو اختیارات سے تجاوز کا طعنہ دیا جاتا ہے، ایساخوف پیدانہیں کرناچاہتے جوہماری معیشت کیلئے نقصان دہ ہو۔جسٹس اعجاز الاحسن نے گورنر اسٹیٹ بینک سے استفسار کیا کہ کیا پاکستان کے اکاؤنٹس سے متعلق سوئس حکام سے معلومات مانگی ہے؟

گورنر اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ معلوم نہیں کہ سوئس حکام کے پاس معلومات ہیں یا نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…