جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

جج ریٹائرمنٹ کے بعد صرف ایک ڈرائیور اور ایک گارڈ رکھ سکتا ہے لیکن سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے پاس کتنی بڑی ’’نفری‘‘ ہے؟ حیرت انگیز انکشافات، بڑا فیصلہ سنا دیا گیا

datetime 18  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری بلٹ پروف گاڑی رکھنے کے اہل نہیں ہیں، اسلام آباد ہائی کورٹ نے افتخار محمد چودھری کے زیر استعمال بلٹ پروف گاڑی سے متعلق کیس کا تحریری فیصلہ دے دیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے 31 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا ہے،

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد جج صرف ایک ڈرائیور اور ایک گارڈ رکھ سکتا ہے لیکن سابق چیف جسٹس آف پاکستان کے پاس دو سب انسپکٹرز، نو کانسٹیبل، ایک ہیڈ کانسٹیبل اور دو ڈرائیورز ہیں، ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلے میں کہا کہ افتخار محمد چودھری سمیت سپریم کورٹ کے بعض ریٹائرڈ ججز قانون پر عمل نہیں کر رہے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ ریٹائرڈ ججز صرف ججز پنشن آرڈر کے تحت مراعات حاصل کر سکتے ہیں لیکن سپریم کورٹ کے دیگر ریٹائرڈ ججز بھی ریٹائرمنٹ کے بعد زائد مراعات لے رہے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں مزید کہا گیا کہ وزیراعظم کو بھی اختیار نہیں کہ ججز پینشن آرڈر میں درج مراعات سے زائد فوائد دیں، ریٹائرڈ ججز کو دی جانی والی مراعات کی حکومتی رپورٹ بھی فیصلے کا حصہ بنائی گئی ہے۔ اس عدالتی فیصلے سے معلوم ہوا ہے کہ صرف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری ہی نہیں بلکہ سابق جسٹس عبدالحمید ڈوگر، تصدق حسین جیلانی، انور ظہور جمالی اور ناصر الملک، نواز عباسی اور طار ق پرویز بھی استحقاق سے زیادہ مراعات حاصل کر رکھی ہیں۔ریٹائرڈ جج ایک ملازم رکھ سکتا ہے لیکن ان ججز نے تین تین ملازم رکھے ہوئے ہیں۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ وزیراعظم کو بھی اختیار نہیں کہ ججز پینشن آرڈر میں درج مراعات سے زیادہ فوائد دیں، ریٹائرڈ ججز کو دی جانی والی مراعات کی حکومتی رپورٹ بھی فیصلے کا حصہ بنائی گئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…