جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

ہاں میں نے جھوٹی خبر دی تھی، زینب قتل دیکھ کر بطور والد جذباتی ہو گیا تھا معافی مانگتے ہوئے سپریم کورٹ میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے کیا اعلان کر دیا

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)زینب قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت ، ڈاکٹر شاہد مسعود نےسپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا، اپنا مقدمہ نہیں لڑنا چاہتا، آئندہ محتاط رہوں گا، عدالت کو داخل جواب میں یقین دہانی۔ تفصیلات کے مطابق زینب قتل ازخود نوٹس کی کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شاہد مسعود نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا ہے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے گذشتہ سماعت میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر جواب جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔ اپنے جواب میں ڈاکٹر شاہد مسعود

کا کہنا تھا کہ زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کے بینک اکائونٹس اورعمران کے با اثر افراد کے ساتھ تعلقات بارے معلومات ملیں جس پر میں بطور والد جذباتی ہو گیا تھا ، ڈاکٹر شاہد مسعود کا عدالت میں داخل اپنے جواب میں کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی کے ممبرز کا انتخاب عدالت نے کیا ، سچائی پتہ چلانے کا مینڈیٹ بھی عدالت نے کمیٹی ممبرز کو دیا۔ انکوائری کمیٹی رپورٹ کی تردید نہیں کرتا ، کمیٹی فائنڈنگز سچی ہیں یا جھوٹی اس حوالے سے بات نہیں کر سکتا۔ اپنا مقدمہ نہیں لڑنا چاہتا، یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ گفتگو میں محتاط رہوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…