بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

ہاں میں نے جھوٹی خبر دی تھی، زینب قتل دیکھ کر بطور والد جذباتی ہو گیا تھا معافی مانگتے ہوئے سپریم کورٹ میں ڈاکٹر شاہد مسعود نے کیا اعلان کر دیا

datetime 10  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)زینب قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت ، ڈاکٹر شاہد مسعود نےسپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا، اپنا مقدمہ نہیں لڑنا چاہتا، آئندہ محتاط رہوں گا، عدالت کو داخل جواب میں یقین دہانی۔ تفصیلات کے مطابق زینب قتل ازخود نوٹس کی کی سماعت آج سپریم کورٹ میں ہوئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر شاہد مسعود نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کرا دیا ہے۔ خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے گذشتہ سماعت میں ڈاکٹر شاہد مسعود کو انکوائری کمیٹی کی رپورٹ پر جواب جمع کروانے کی ہدایت کی تھی۔ اپنے جواب میں ڈاکٹر شاہد مسعود

کا کہنا تھا کہ زینب قتل کیس کے مرکزی ملزم عمران کے بینک اکائونٹس اورعمران کے با اثر افراد کے ساتھ تعلقات بارے معلومات ملیں جس پر میں بطور والد جذباتی ہو گیا تھا ، ڈاکٹر شاہد مسعود کا عدالت میں داخل اپنے جواب میں کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی کے ممبرز کا انتخاب عدالت نے کیا ، سچائی پتہ چلانے کا مینڈیٹ بھی عدالت نے کمیٹی ممبرز کو دیا۔ انکوائری کمیٹی رپورٹ کی تردید نہیں کرتا ، کمیٹی فائنڈنگز سچی ہیں یا جھوٹی اس حوالے سے بات نہیں کر سکتا۔ اپنا مقدمہ نہیں لڑنا چاہتا، یقین دلاتا ہوں کہ آئندہ گفتگو میں محتاط رہوں گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…