جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

چیف جسٹس کا میڈیکل کالجز کے اکا ئو نٹس کو چارٹرڈ فرم سے آڈٹ کروانے کاحکم

datetime 9  مارچ‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی ) چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے میڈیکل کالجز کے اکا ئو نٹس کو چارٹرڈ فرم سے آڈٹ کروانے کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ چارٹرڈ اکاونٹٹنٹ کے تمام اخرجات کالجز برداشت کریں گے انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ بابا رحمتے ایسے ہی لگا رہتا ہے لیکن مجھے کسی کی پروا نہیں لوگ جو مرضی تنقید کریں،بابے کا تصور اشفاق احمد سے لیا اور بابا وہ ہے جو لوگوں کیلیے سہولتیں پیدا کرتا ہے۔

جمعہ کو سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی سربراہی میں میڈیکل کالجز میں فیسوں کے اضافے پر ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی، چیف جسٹس نے دوران سماعت ریمارکس میں کہا کہ بہت سارے ایشوز کو اکٹھا ٹیک اپ کیا، اب ہم ہر معاملے کو علیحدہ علیحدہ دیکھیں گے، پی ایم ڈی سی کو اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے، ایجویکشن کاروبار ہو سکتا ہے لیکن میڈیکل کی تعلیم ایسی نہیں کہ اس پر فیسیں لگائی جائیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ فیسیں اتنی نہ بڑھا دی جائیں کہ لوگوں کی جیبیں ہی کاٹ لی جائیں، مجھے ڈاکٹر ندیم ظفر نے بتایا کہ ایسے ڈاکٹرز آرہے ہیں جنہیں بلڈ پریشر چیک کرنا نہیں آتا، کل 5 بچے مر گئے، ان کا زمہ دار کون ہے، اب ان پر انکوائری ہوگی اور آخر میں سارا ملبہ دھوپ پر ڈال دیا جائے گا ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ مجھے لوگ کہتے ہیں کہ بابا رحمتے ایسے ہی لگا رہتا ہے، لوگ جو مرضی تنقید کریں مجھے کسی کی پرواہ نہیں ہے، بابے کا تصور کہاں سے لیا آج بتاتا ہوں، بابے کا تصور اشفاق احمد سے لیا اور بابا وہ ہے جو لوگوں کیلیے سہولتیں پیدا کرتا ہے۔ عدالت نے میڈیکل کالجز کے اکا ئو نٹس کو چارٹرڈ فرم سے آڈٹ کروانے کاحکم دیتے ہوئے کہا کہ چارٹرڈ اکاونٹٹنٹ کے تمام اخرجات کالجز برداشت کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…