جمعرات‬‮ ، 08 جنوری‬‮ 2026 

پاک امریکہ تعلقات میں نیا موڑ۔۔امریکہ نے پاکستان کے تین بڑے دشمنوں کے سروں کی قیمت مقرر کر دی

datetime 9  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ، کالعدم جماعت الاحرار کے سربراہ عبدالولی اور کالعدم لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کے سروں کی قیمت مقرر کر دی۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے سربراہ ملافضل اللہ، منگل باغ اور جماعت الحرار کے سربراہ عبدالولی کی

اطلاع دینے والوں کے لیے انعامات کا اعلان کردیا۔امریکہ نے ملافضل اللہ کے حوالے سے اطلاع دینے والے کے لیے 50 لاکھ ڈالر جبکہ لشکراسلام کے سرغنہ منگل باغ اور کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کے سربراہ عبدالولی کا پتا بتانے پر30 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے ملا فضل اللہ نے آرمی پبلک اسکول پرحملے کا اعتراف کیا تھا جس میں معصوم بچوں سمیت 148افراد شہید ہوئے تھے، اس کے علاوہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نے 2010 میں ٹائمزاسکوائر نیویارک میں حملے کی کوشش کی تھی۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجنوعہ امریکہ سے بات چیت کے لیے واشنگٹن گئی ہیں۔خیال رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد نومبر 2013 میں ملا فضل اللہ کو ٹی ٹی پی کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ 13 جنوری 2015 کو امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔2015میںامریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کے مطابق ملا فضل اللہ کے امریکہ میں موجود تمام اکاؤنٹ اورپراپرٹی منجمد کردی گئی ہے۔تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد نومبر 2013 میں ملا فضل اللہ کو ٹی ٹی پی کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تحریکِ طالبان پاکستان کو بھی دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ملا فضل اللہ نے ٹی ٹی پی کا سربراہ بننے سے قبل ستمبر 2013 میں پاکستانی فوج کے میجر جنرل ثناء اللہ نیازی کو ایک حملے میں قتل کیا تھا۔ اس سے قبل جون 2012 میں 17 فوجیوں کے سرقلم کردیے گئے تھے۔

موضوعات:



کالم



پرسی پولس


شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…