جمعہ‬‮ ، 21 اگست‬‮ 2026 

پاک امریکہ تعلقات میں نیا موڑ۔۔امریکہ نے پاکستان کے تین بڑے دشمنوں کے سروں کی قیمت مقرر کر دی

datetime 9  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکہ نے کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ، کالعدم جماعت الاحرار کے سربراہ عبدالولی اور کالعدم لشکر اسلام کے سربراہ منگل باغ کے سروں کی قیمت مقرر کر دی۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ نے پاکستان کے سربراہ ملافضل اللہ، منگل باغ اور جماعت الحرار کے سربراہ عبدالولی کی

اطلاع دینے والوں کے لیے انعامات کا اعلان کردیا۔امریکہ نے ملافضل اللہ کے حوالے سے اطلاع دینے والے کے لیے 50 لاکھ ڈالر جبکہ لشکراسلام کے سرغنہ منگل باغ اور کالعدم تنظیم جماعت الاحرار کے سربراہ عبدالولی کا پتا بتانے پر30 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے ملا فضل اللہ نے آرمی پبلک اسکول پرحملے کا اعتراف کیا تھا جس میں معصوم بچوں سمیت 148افراد شہید ہوئے تھے، اس کے علاوہ کالعدم ٹی ٹی پی کے سربراہ نے 2010 میں ٹائمزاسکوائر نیویارک میں حملے کی کوشش کی تھی۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجنوعہ امریکہ سے بات چیت کے لیے واشنگٹن گئی ہیں۔خیال رہے کہ کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد نومبر 2013 میں ملا فضل اللہ کو ٹی ٹی پی کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ 13 جنوری 2015 کو امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا۔2015میںامریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کے مطابق ملا فضل اللہ کے امریکہ میں موجود تمام اکاؤنٹ اورپراپرٹی منجمد کردی گئی ہے۔تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد نومبر 2013 میں ملا فضل اللہ کو ٹی ٹی پی کا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے تحریکِ طالبان پاکستان کو بھی دہشت گرد تنظیم کی فہرست میں شامل کیا تھا۔ملا فضل اللہ نے ٹی ٹی پی کا سربراہ بننے سے قبل ستمبر 2013 میں پاکستانی فوج کے میجر جنرل ثناء اللہ نیازی کو ایک حملے میں قتل کیا تھا۔ اس سے قبل جون 2012 میں 17 فوجیوں کے سرقلم کردیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…