بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

چیف نے نہال ہاشمی سے کہا جن کے لیے آپ نے ہمیں گالیاں دیں وہ آپ کے بچوں کا بندوبست کر لیں گے، کیا آپ کریں گے؟ صحافی کے سوال پر نواز شریف لاجواب، سر کھجانے لگے

datetime 8  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نواز شریف آج نیب عدالت میں پیشی کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات چیت کر رہے تھے، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق میاں نواز شریف نے کہا کہ چیئرمین سینٹ کی سیٹ پر کسی ایسے آدمی کو بٹھانے کی ضرورت نہیں ہے جو خود کمپرومائزڈ ہو یا کمپرو مائز کرنے والا ہو، اس لیے ہم نے تو رضا ربانی کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا تھا

کیونکہ وہ اس سیٹ کے لیے موزوں ہیں لیکن ان کی لیڈر شپ انہیں قبول نہیں کر رہی، اس لیے ہم اپنا امیدوار تلاش کر رہے ہیں جو معیار پر پورا اتر سکے، اس موقع پر ایک صحافی نے میاں نواز شریف سے سوال کیا کہ کل نہال ہاشمی نے چیف جسٹس سے معافی مانگی ہے اور کہا ہے کہ جن کی وجہ سے بیان دیا ہے وہ بچوں کا بندوبست کر لیں گے، کیا آپ بچوں کا بندوبست کریں گے، اس کے جواب میں نواز شریف صرف سر کھجاتے ہی رہ گئے، اس موقع پر صحافی نے سوال کیا کہ آپ کا چیئرمین سینٹ کا امیدوار نہیں آ رہا، جس کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ کس نے کہا کہ نہیں آ رہا، رضا ربانی پر تمام پارٹیاں اتفاق کرتی ہیں کیا مسلم لیگ (ن) کے پاس کوئی ایسا امیدوار ہے جس پر تمام پارٹیاں اتفاق کریں، نواز شریف نے جواب دینا چاہا لیکن اسی دوران کسی صحافی نے کہا کہ مشاہد حسین صاحب ہیں جس پر نواز شریف نے کہا کہ مشاہد حسین صاحب بہت اچھے ہیں اور میں انہیں ذاتی طور پر بہت پسند کرتا ہوں، میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کا تین بار وزیراعظم رہ چکا ہوں کرپشن ہوتی تو ثابت ہو جاتی۔ میاں نواز شریف نے کہا کہ چیئرمین سینٹ کی سیٹ پر کسی ایسے آدمی کو بٹھانے کی ضرورت نہیں ہے جو خود کمپرومائزڈ ہو یا کمپرو مائز کرنے والا ہو، اس لیے ہم نے تو رضا ربانی کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا تھا کیونکہ وہ اس سیٹ کے لیے موزوں ہیں لیکن ان کی لیڈر شپ انہیں قبول نہیں کر رہی، اس لیے ہم اپنا امیدوار تلاش کر رہے ہیں جو معیار پر پورا اتر سکے

موضوعات:



کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…