اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک،آئی این پی)سینئر صحافی اور اینکر پرسن حامد میر نے نجی ٹی وی پروگرام میں اظہارخیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں چودھری نثار کا بہت احترام کرتا ہوں۔ ن لیگ کے مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں انہیں بلایا نہیں گیا تھا اور یہ بات مجھے مسلم لیگ ن کے ٹاپ لیول کے لیڈرز نے بڑی خوشی سے بتائی ،یہ وہی لیڈر تھے جو چودھری نثار کی بڑی خوش آمد کرتے رہے ہیں۔یہ دیکھ کر مجھے بے حد دکھ ہوا۔
اس کے بعد مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وہ آئے اور ان کی وزیرا عظم شاہد خاقان سے ملاقات ہوئی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چودھری نثار مسلم لیگ ن کے ساتھ ہیں۔ چودھری نثارسینٹ انتخابات میں حصہ لیں گے اور مشاہد حسین کو ووٹ ڈالیں گے اور مشاہد حسین نے ان سے ووٹ مانگا بھی ہے۔ واضح رہے کہ کل پارلیمنٹ کی راہداری میں وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر داخلہ کا آمنا سامنا بھی ہوا تھا۔ اس موقع پرچوہدری نثار نے ن لیگ کو ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی۔وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 12بجکر6منٹ پر سینیٹ انتخابات کیلئے اپنا ووٹ کاسٹ کیا، قومی اسمبلی آمد کے موقع پر(ن)لیگ کے ارکان اور اتحادیوں نے گرمجوشی کے ساتھ وزیراعظم کا استقبال کیا، ایک صحافی کے سوال کے جواب میں وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ قومی اسمبلی میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہورہی۔ ہفتہ کو سینیٹ انتخابات کے موقع پر وزیراعظم شاہد خاقان عباسی ووٹ ڈالنے کیلئے قومی اسمبلی پہنچے، اتحادی جماعتوں کے ارجمان اور مسلم لیگ (ن)کے ارکان نے وزیراعظم کا استقبال کیا، وزیراعظم نے ارکان اسمبلی سے مختصر گفتگو کی اور سینیٹ انتخابات کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس موقع پر ایک صحافی نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ (ن)لیگ پر ہارس ٹریڈنگ کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جواب دیا کہ قومی اسمبلی میں کوئی ہارس ٹریڈنگ نہیں ہورہی۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے دن 12بجکر6منٹ پر سینیٹ انتخابات کیلئے اپنا ووٹ کاسٹ کیا۔



















































