بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

اگر میری تقرری اقربا پروری ہے تو چیف جسٹس ثاقب نثار کی بطور جج تقرری بھی سیاسی تھی، میاں ثاقب نثار کو نواز شریف نے پہلے سیکرٹری قانون اور پھر ہائی کورٹ کا جج تعینات کیا، صدیق الفاروق کی سپریم کورٹ میں اپیل

datetime 1  مارچ‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق نے اپنی تقرری کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے پرنظر ثانی کی درخواست دائر کر دی ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما صدیق الفاروق نے خود کو چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کے عہدے سے ہٹانے سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواست دائر کرتے ہوئے کہا ہے کہ متروکہ وقف املاک کے عہدے پر میرٹ پر میرا تقرر ہوا،

اگر میری تقرری اقربا پروری ہے تو چیف جسٹس ثاقب نثار کی بطور ہائی کورٹ جج تقرری بھی سیاسی تھی۔ تفصیلات کے مطابق صدیق الفاروق نے نظر ثانی درخواست میں استدعا کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی مدِنظر نہیں رکھا اور میرے خلاف فیصلہ دیتے ہوئے قانونی تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ اپنی درخواست میں صدیق الفاروق نے چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس میاں ثاقب نثار کے کٹاس راس از خود نوٹس کیس کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ میرا تقرر نواز شریف نے بطور چیف ایگزیکٹو کیا تھا، صدیق الفاروق نے موقف اختیار کیا کہ اگر میر ی تقرری میرٹ پر نہیں ہوئی اور اقربا پروری کی بنیاد پر ہوئی ہے تو پھر ایڈووکیٹ ثاقب نثار کا ہائی کورٹ کا جج بنانا بھی سیاسی تھا کیونکہ نواز شریف نے پہلے انہیں سیکرٹری قانون اور پھر بعد میں ہائی کورٹ کا جج بنایا۔ اپنی درخواست میں انہوں نے کہاکہ میری اور ایڈووکیٹ ثاقب نثار کی تقرری میرٹ پر ہوئی تھی۔ مسلم لیگ کے رہنما صدیق الفاروق نے اپنی درخواست میں کہا کہ کٹاس راس از خود نوٹس کیس میں چیف جسٹس نے میری تذلیل کی اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ایک اخباریں اکٹھی کرنے والے کو متروکہ وقف املاک کا چیئرمین لگایا گیا، صدیق الفاروق نے اپنی درخواست میں فیصلے پر نظرثانی کرنے کی استدعا کی۔ یاد رہے کہ 31 جنوری 2018ء کو سپریم کورٹ نے

صدیق الفاروق کو متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹاتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ اس عہدے کی نوعیت کے اعتبار سے نئی تقرری کی جائے۔ اس سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے تھے کہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کا عہدہ نیم عدالتی نوعیت کا ہے۔ اس موقع پر عدالت عظمیٰ کا کہنا تھا کہ اس عہدے کے لیے صدیق الفاروق اہل نہیں ہیں اور بادی النظر میں یہ سیاسی اقربا پروری ہے کیونکہ ان کا تعلق مسلم لیگ (ن) سے ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…