ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

حسین حقانی کے خلاف کارروائی، ایک ہفتے کے اندر جو کرنا ہے کرلیں ، اس کے بعدکیا ہوگا؟چیف جسٹس ثاقب نثار نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)میمو کیس اسکینڈل میں سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو حکم دیا ہے کہ اگر ایک ہفتے میں حسین حقانی کے حوالے سے قانونی اقدامات نہ ہوئے تو ڈی جی ایف آئی اے عدالت آجائیں۔ منگل کو چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ حسین حقانی کے خلاف میمو گیٹ کیس کی سماعت کی، ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا وقار نے عدالت کو بتایا کہ انٹر پول کوخط لکھ دیا ہے، انٹرپول نے حسین حقانی کا جوڈیشل ریکارڈ مانگا ہے،

حسین حقانی بھی متحرک ہیں جب کہ ڈوزئیر تیار کرکے انٹرپول کو بھجوانا ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ میڈیا میں خبریں آنے سے حسین حقانی متحرک ہوجاتے ہیں ٗرانا وقار نے عدالت سے استدعا کی کہ مناسب ہوگا کہ مجھے چیمبر میں سن لیا جائے ٗ یہاں سے خبریں جاتی ہیں ٗوہاں حسین حقانی فعال ہو جاتے ہیں۔ سماعت کے موقع پر درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ حسین حقانی کے خلاف شواہد ریکارڈ ہوچکے ہیں لہذا چیمبر سماعت کی ضرورت نہیں ہے، کمیشن کی رپورٹ انٹرپول کوبھجوا دی جائے جبکہ امریکا کے ساتھ پاکستان کا معاہدہ بھی موجود ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ حسین حقانی پاکستان سے باہر ہیں، ہمیں یہ نہیں معلوم کہ حسین حقانی دوہری شہریت رکھتے ہیں یا نہیں جب کہ انٹرپول کو ریڈ وارنٹ جاری کرنا ہیں اور ہماری انٹرپول پر دسترس نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ انٹرپول کودرکار مواد بھی فراہم کرنا ہوگا، وزارت داخلہ کو وہ مواد فراہم کرنے دیں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اگر کوئی جرم ہوا تو مقدمہ درج کیوں نہ ہوا، ایک ہفتے کے اندر جو کرنا ہے وہ کرلیں، بے خوف و خطر ہو کر کام کریں، اس ملک پر اللہ کی مہربانی ہے تو کوئی لابی کچھ نہیں کرسکتی۔سپریم کورٹ نے ایف آئی اے کو ایک ہفتے کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ اگرہفتے میں اقدامات نہ ہوسکے تو ڈی جی ایف آئی عدالت آجائیں، عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…