ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

مدرسے کے 6قاریوں کی 150کم سن طالبعلموں سے اجتماعی زیادتی کا انکشاف،زیادتی کے دوران ویڈیو بناتےاور منہ بند رکھنے کیلئے قرآن پاک پر حلف بھی لیتے رہے

datetime 27  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور میں جوہر ٹاؤن کے قریب نواب ٹاؤن کے آر بلاک میں واقع دینی مدرسے جامع الفیصل میں 150طالبعلموں (بچوں )سے زیادتی کا انکشاف،6افراد پر مشتمل مولویوں کا سرغنہ قاری عمران یوسف جبکہ سہولت کار قاری نعمان شامل ،مدرسے میں 300طالبعلم زیر تعلیم تھے ۔150سے زیادتی کرکے زبردستی ویڈیو بنا کر بچوں کو بلیک میل کر کے قرآن مجید پر حلف لیا جاتا تاکہ وہ باہر جا کر کسی کو نہیں بتائینگے ۔

روزنامہ نیا اخبار کے مطابق نواب ٹاؤن کے قریب علاقے آر بلاک میں دینی درسگاہ جامع الفیصل میں قرآن پاک حفظ و ناظرہ کی تعلیم حاصل کرنے کیلئے آنے والے معصوم بچوں کو قاری نعمان نے اپنے ساتھیوں سے ملکر جنسی ہوس کا نشانہ بنا ڈالا، معصوم بچوں سے زیادتی کے بعد ان کی ویڈیو فلمیں بنا کر بلیک میل کیا جاتا ۔پھر دو تین سال انہیں مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ۔ یہ انکشاف اس وقت سامنے آیا کہ عبدالمتین نامی بچے نے مدرسے میں قرآن حفظ کرنے کی خاطر داخلہ لیا ۔قاری نعمان نے بچے سے زیادتی کرنا چاہی تو بچے نے شور مچاتے ہوئے دوڑ لگا دی اور گھر آکر والد کو ساری بات سے آگاہ کیا۔ جس کے بعد مدرسے کے کئی بچوں نے اپنے ساتھ ہونے والی زیادتی کے بارے میں بتایا۔ کئی بچوں کے والدین نے کہا کہ انہیں اس بات کا علم تھا لیکن وہ عزت کی خاطر خاموش رہے ۔جامع الفیصل کے طالبعلم ابوبکر نے بتایا کہ اس کو دو سال سے قاری نعمان اور اس کے ساتھی بار بار زیادتی کا نشانہ بناتے رہے ۔ابوبکر کے والد ندیم کی رپورٹ پر پولیس نے مقدمہ درج کر کے قاری نعمان کو گرفتار کیا لیکن رسمی کارروائی کر کے تھوڑی دیر بعد رہا کر دیا۔ تھانہ نواب ٹاؤن کے ڈی ایس پی ریاض شاہ مقدمے کو ڈیل کر رہے تھے ۔ایف آئی آر مقدمہ نمبر228/18جبکہ مدعی ابوبکر

کے والد ندیم ہیں ،بتایا گیا ہے کہ نواب ٹاؤن بلاک کے مدرسے جامع الیفصل میں 300بچے زیر تعلیم تھے لیکن بچوں سے زیادتی کے انکشاف کے بعد اکثر لوگوں نے بچوں کو دینی تعلیم دلانے سے توبہ کر تے ہوئے بچوں کو مدرسے سے اٹھا لیا ہے اور اب صرف 90بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔قاری نعمان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ وہ بچے کو کمرے میں سر یا ٹانگیں دبانے کے بہانے بلاتا ۔وہاں پہلے سے موجود 5سے 6شکاری نما مولوی موجود ہوتے

جو بچے کے کپڑے اتار کر برہنہ کرتے۔بچے کو باری باری ہوش کا نشانہ بناتے پھر ویڈیو بنا کر بلیک میل کرتے ۔بچہ خوف کے مارے کسی کو نہ بتاتااور مولوی حضرات مسلسل کئی ماہ بچے کو اپنی جنسی تسکین کیلئے استعمال کرتے ۔ابوبکر کے والد ندیم کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس پولیس کے حساس اداروں کو ایسے دینی مدارس کیخلاف کریک ڈاؤن کے احکامات جاری کریں جنہوں نے معصوم بچوں کی زندگیاں برباد کیں کیونکہ یہاں پر مولوی(عمران اور جاوید اقبال)بنا ہوا ہے جو اندر سے خونخوا بھیڑیے ہیں جو انسانیت اور مذہب کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ۔یا ان مولویوں کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جائے جو عبرت کا نشان بن جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…