ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ڈاکٹرشاہد مسعود کے الزامات کی حقیقت،زینب سے زیادتی انفرادی فعل تھایا اس کے پیچھے کوئی گینگ ہے ؟پاکستانی بچوں کی فحش ویڈیوز ڈارک ویب پر اپلوڈ کی جاتی ہیں،قومی اسمبلی میں چونکادینے والے انکشافات

datetime 26  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی میں بچوں سے زیادتی کے معاملے پرقائم خصوصی کمیٹی نے بچوں کی فحش وڈیوز ویب سائٹ پر اپ لوڈ ہونے کے انکشاف پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ڈارک ویب سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔ پیر کو وزیر مملکت برائے اطلاعات ونشریات مریم اورنگزیب کی زیرصدارت بچوں سے زیادتی کے معاملے پرقائم خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا جہاں پاکستانی بچوں کی فحش وڈیوز کو ڈارک ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کیے جانے کا انکشاف ہوا۔

پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی علی محمد خان نے کہاکہ سوشل میڈیا کے تحت بچوں سے زیادتی کی وڈیوز ڈارک ویب پر اپلوڈ کی جاتی ہے ٗاس ویب سائیٹ کی ڈیمانڈ پر بچوں کو قتل بھی کیا جاتا ہے۔قومی اسمبلی کی کمیٹی نے پی ٹی اے کو نوٹس جاری کردیا اور پی ٹی اے سے ڈارک ویب سے متعلق تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔وزیر مملکت مریم اورنگ زیب کا کہنا تھا کہ بتایا جائے کہ واقعات ڈارک ویب سائٹ پر موجود ہیں۔کمیٹی نے پی ٹی اے کو ڈارک ویب سے متعلق رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی ویب سائیٹس کو بلاک کرنے کیلئے کیا اقدامات کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پی ٹی اے بتائے کہ ڈارک ویب پر پاکستانی بچوں کی ویڈیوز موجود ہیں یا نہیں اور اگر موجود ہیں تو سائبر کرائم ایکٹ کے تحت ایسی ویب سائٹس کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔اجلاس کے دوران وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگیزیب نے انسانی حقوق کمیشن کے حکام سے استفسار کیا کہ بچوں کیخلاف جرائم کا کوئی ڈیٹا موجود ہے؟ آپ ہمیں پلان آف ایکشن بتائیں ہم مزید تجاویز دیں گے۔علی محمد خان نے کہا کہ پتہ چلانا ہوگا کہ زینب کیس انفرادی فعل ہے یا اس کے پیچھے کوئی گینگ ہے جبکہ ایف آئی اے کو پابند بنایا جائے کہ وہ ڈارک ویب کا بھی پتہ چلائے۔قومی اسمبلی کی کمیٹی نے پنجاب کے ضلع قصور میں کم سن زینب اور خیبر پختونخوا (کے پی) میں عاصمہ قتل کیس پر

تفتیش کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ کیلئے دونوں صوبوں کے پولیس سربراہان کو بھی طلب کرلیا۔کمیٹی نے آئی جی پنجاب اور آئی جی کے پی کو نوٹس جاری کردیا ہے، نوٹس میں دونوں پولیس سربراہاں کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔نوٹس میں کہا گیا کہ ددونوں کیسز میں اب تک ہونے والی تفتیش کے حوالے سے بریفنگ دی جائے۔اجلاس کے دور ان زینب کے قاتل کی سر عام پھانسی سے متعلق

علی محمد خان سمیت دیگر ارکانِ کمیٹی نے بچوں کے ساتھ زیادتی کے مجرموں کو سر عام پھانسی دینے کا مطالبہ کردیا۔ رکمیٹی رکن مجیدہ وائیں نے کہا کہ بچوں کے تحفظ کیلئے ضلعی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں اور ان کمیٹیوں کی سربراہی ارکان اسمبلی کو دی جائے۔کمیٹی نے آئندہ اجلاس میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی (پیمرا) حکام کو بھی طلب کرلیا ہے۔واضح رہے کہ اس سلسلے میں معروف ٹی وی اینکر ڈاکٹر شاہد مسعود بھی سنگین الزامات عائد کرچکے ہیں جس پرتحقیقات جاری ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…