جمعہ‬‮ ، 02 جنوری‬‮ 2026 

ادھر سے بھی پاکستان ۔۔۔۔! بھارتی آرمی چیف نے بنگلہ دیش سے بھی دراندازی کے الزامات عائد کردیئے ،مضحکہ خیز دعوے

datetime 23  فروری‬‮  2018 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) انڈین فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں غیرقانونی طور پر بنگلہ دیش سے ہونے والی دراندازی کے بارے میں پاکستان کا نام لیے بغیر کہا ہے کہ اس میں مغربی ہمسائے کا ہاتھ ہے اور اسے چین کی بھی حمایت حاصل ہے۔جنرل راوت نے پاکستان یا چین کا نام نہیں لیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ مغرب میں ہمارا ہمسایہ ملک یہ پراکسی گیم کھیل رہا ہے اور اسے شمال میں ہمارے ہمسائے کی حمایت حاصل ہے۔

شمال مشرقی ریاستوں، خاص طور پر آسام میں بنگلہ زبان بولنے والے لوگوں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور الزام یہ ہے کہ ان میں ایک بڑی تعداد بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر وہاں آکر آباد ہوگئی ہے۔شمال مشرقی ریاستوں پر ایک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنرل بپن راوت نے کہا کہ اب اس علاقے میں آبادی کے تناسب کو نہیں بدلا جاسکتا۔یہ واضح نہیں ہے کہ اس بیان سے ان کی کیا مراد تھی لیکن آسام کے کئی اضلاع میں اب مسلمانوں کی اکثریت ہے جس کے لیے سیاسی جماعتیں جنرل راوت نے یہ بھی کہا کہ اس علاقے میں آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ نام کی ایک جماعت ہے جو بہت تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔ سنہ 1980 کے عشرے میں بی جے پی سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے۔اس جماعت کے سربراہ مولانا بدرالدین اجمل ہیں جو جمیعت علما ہند سے بھی وابستہ ہیں۔ جنرل راوت کے بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ ان کی پارٹی غیر قانونی تارکین وطن کی حمایت کی آسام میں حکومت غیرقانونی تارکین وطن کی نشاندہی کرنے کے لیے شہریوں کا ایک رجسٹر ترتیب دے رہی ہے جنرل راوت نے یہ بھی کہا کہ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس علاقے میں جو لوگ رہتے ہیں انھیں بلا لحاظ ذات، مذہب اور جنس آپس میں مل کر رہنا ہے۔ اگر ہم یہ سمجھ جائیں تو ہم خوشی سے ایک ساتھ رہ سکتے ہیں، لیکن ہمیں پہلے مل کر رہنا ہوگا اور پھر ان لوگوں کی نشاندہی کرنا ہوگی جو ہمارے لیے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ مسلمان 13ویں صدی میں آسام میں آنا شروع ہوئے تھے۔ لہذا آسام پر ان کا بھی حق ہے۔ لیکن ہمیں غیرقانونی طور پر یہاں بسنے والوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔فوج کا کہنا ہے جنرل راوت کے بیان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا اور وہ صرف شمال مشرق کی مجموعی صورتحال اور وہاں ترقی کے بارے میں بات کر رہے تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کام یابی کے دو فارمولے


کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…

نوٹیفکیشن میں تاخیر کی پانچ وجوہات

میں نریندر مودی کو پاکستان کا سب سے بڑا محسن سمجھتا…

چیف آف ڈیفنس فورسز

یہ کہانی حمود الرحمن کمیشن سے شروع ہوئی ‘ سانحہ…