اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی پارٹی صدارت سے نا اہلی کے بعد ان کے بہ حیثیت پارٹی صدر تمام فیصلے کالعدم ہو گئے ہیں۔ واضح رہے کہ میاں محمد نواز شریف نے ہی موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی تقرری کی اس کے علاوہ کلثوم نواز کو ٹکٹ بھی ان کے مشورے سے دیا گیا اور لودھراں کے ضمنی انتخاب میں ن لیگ کے امیدوار اقبال شاہ کو بھی ٹکٹ نواز شریف نے دیا،
سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد نواز شریف کی طرف سے کیے گئے یہ تینوں فیصلے بھی سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ ان پر سپریم کورٹ کے فیصلے کا کیا اثر پڑے گا، سیاسی حلقوں میں اس بات پر بحث جاری ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق عدالتی فیصلے میں نوازشریف کے بطور پارٹی صدر اٹھائے گئے اقدامات کو بھی کالعدم قرار دیدیا گیا جس کے بعد سابق وزیراعظم کے بطور پارٹی صدر سینیٹ انتخابات کے امیدواروں کی نامزدگی کالعدم ہوگئی اور مسلم لیگ (ن) کے تمام امیدواروں کے ٹکٹ منسوخ ہوگئے۔یاد رہے کہ دو اکتوبر 2017 کو سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی سے انتخابی اصلاحات بل 2017 منظوری کے بعد نواز شریف کیلئے پارٹی صدر بننے کیلئے راہ ہموار ہوئی۔پاناما کیس کے فیصلے کے بعدنواز شریف پارٹی صدر کیلئے نااہل ہوگئے تھے اور پارلیمنٹ سے نئے بل کی منظوری کے بعد تین اکتوبر کو وہ ایک مرتبہ پھر بلا مقابلہ پارٹی صدر منتخب ہوئے اور اب وہ سپریم کے فیصلے کے بعد دوبارہ پارٹی صدر کے عہدے کے لیے نااہل ہو گئے ہیں۔واضح رہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی، پی ٹی آئی، شیخ رشید اور جمشید دستی سمیت دیگر نے درخواستیں دائر کی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ نواز شریف نااہل ہیں اور وہ پارٹی صدر نہیں بن سکتے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ بات تو طے ہے کہ سینٹ کے امیدواورں کے تمام ٹکٹ منسوخ ہوگئے ہیں لیکن اس سے قبل لودھراں کے الیکشن میں پیر اقبال شاہ کو ٹکٹ کس نے دیاتھا؟ اگر وہ ٹکٹ بھی نوازشریف نے ہی دیا تھا تو کیا لودھراں میں دوبارہ انتخابات ہونگے؟ اس مسئلے کی وضاحت سپریم کورٹ ہی کرسکتی ہے۔