ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

ریاستی ادارے کے ہاتھ پارلیمنٹ کے گریبان تک پہنچ گئے،نوازشریف کا شدیدردعمل، دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 21  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) سابق وزیراعظم نوازشریف نے کہاہے کہ پارلیمنٹ کے قانون بھی عدالتی توثیق کے محتاج ہوجائیں تویہ کون سا آئین ہے؟ پارلیمنٹ کابنایا گیا قانون من مانی تعبیر سے ختم کرنا خطرناک ہوگا پارلیمنٹ کے کسی قانون کی تشریح کی ضرورت ہے تو ابہام دور کرنے پارلیمنٹ بھیجنا چاہیے۔نجی ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں نوازشریف نے کہاکہ پارلیمنٹ کابنایا گیا قانون من مانی تعبیر سے ختم کرنا خطرناک ہوگا،

پارلیمنٹ کے کسی قانون کی تشریح کی ضرورت ہے،تو ابہام دور کرنے پارلیمنٹ بھیجنا چاہیے پارلیمنٹ کے قانون بھی عدالتی توثیق کے محتاج ہوجائیں تویہ کونسا آئین ہے۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ آئین ریاست کا نظام چلانے والی سب سے مقدس دستاویز ہے، آئین کی دستاویز عوام کے منتخب نمائندوں کی پارلیمنٹ ہی بناتی ہے پارلیمنٹ آئین کے ذریعے دیگر اداروں اور اپنی حدود کا بھی تعین کرتی ہے۔میاں نوازشریف نے کہا کہ اداروں کا احترام ان اداروں کی کارکردگی اور احترام سے ہوتاہے۔سابق وزیرِ اعظم نے کہا کہ پارلیمنٹ کی اتھارٹی چیلنج کرنا ریاستی نظام کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔ پارلیمنٹ کو ائین میں ترامیم کا اختیار بھی ہے۔ کراچی میں کہا تھا کہ ایک ریاستی ادارے نے عملاً انتظامیہ کو مفلوج کر دیا، اسی ریاستی ادارے کے ہاتھ پارلیمنٹ کے گریبان تک پہنچ گئے ہیں، پارلیمانی قانون کو من مانی تعبیر سے ختم کرنا خطرناک ہو گا۔انہوں نے کہا کہ کسی قانون کی تشریح کی ضرورت ہے تو پارلیمنٹ کی طرف بھیج دینا چاہیے۔ انتظامیہ تقرروتبادلہ نہ کر سکے، قانون عدالتی توثیق کا محتاج ہو تو یہ کونسا آئین ہے؟ کم ازکم پاکستان کا آئین تو یہ نہیں کہتا۔نواز شریف نے کہا کہ قوم کو احساس ہے کہ ایک خاندان کو نشانہ بنانے کیلئے کیسے حربے استعمال ہو رہے ہیں اور آئین کو کیوں کر تماشا بنانے کی کوشش ہو رہی ہے۔ نوازشریف نے کہاہے کہ پارلیمنٹ کے قانون بھی عدالتی توثیق کے محتاج ہوجائیں تویہ کون سا آئین ہے؟ پارلیمنٹ کابنایا گیا قانون من مانی تعبیر سے ختم کرنا خطرناک ہوگا پارلیمنٹ کے کسی قانون کی تشریح کی ضرورت ہے تو ابہام دور کرنے پارلیمنٹ بھیجنا چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…