ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

اگر میاں نواز شریف نااہل نہ ہوتے تو کیا ہوتا؟آج کے تین اہم واقعات مستقبل پر کیا اثر ڈالیں گے؟کیا میاں نواز شریف کو مقدمے بازی کا فائدہ ہو رہا ہے ؟ جاوید چودھری کا تجزیہ‎

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

ہم اگر 28 جولائی سے لے کر 12 فروری تک ساڑھے چھ ماہ کا تجزیہ کریں تو ہمیں بھاری دل کے ساتھ یہ ماننا پڑے گا۔ اس عرصے میں میاں نواز شریف نے عوامی ہمدردی ’’گین‘‘ کی‘ ان کے ووٹرز اور سپورٹرز دونوں میں اضافہ ہوا‘ میں سمجھتا ہوں اگر میاں نواز شریف نااہل نہ ہوتے تو یہ آج اتنے مقبول نہ ہوتے‘ آج ان کے جلسے بھی اتنے بھرپور نہ ہوتے اور یہ لودھراں جیسے حلقوں سے ایک لاکھ‘ 13ہزار ووٹ بھی نہ لے رہے ہوتے‘

یہ ان کی نااہلی کا فیصلہ ہے جس نے عوام اور ان کے درمیان فاصلہ کم کر دیا ‘ میاں نواز شریف وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ سٹیبلش بھی کرتے چلے جا رہے ہیں کہ مجھے ناحق نکالا گیا اور مجھے ملک کو ترقی کی پٹڑی پر لانے کی سزا دی جا رہی ہے‘ ایک طرف میاں نواز شریف کا یہ بیانیہ ہے اور دوسری طرف آصف علی زرداری اور عمران خان کا بیانیہ ہے‘ یہ دونوں میاں نواز شریف کو دھرتی کا بوجھ اور کرپٹ کہتے ہیں لیکن کیا عوام ان الزامات کو ماننے کیلئے تیار ہیں‘ میاں نواز شریف کے جلسے اور ضمنی الیکشنوں کے نتائج اس کی نفی کر رہے ہیں‘ یوں محسوس ہوتا ہے عوام عمران خان اور آصف علی زرداری کے بیانیے کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں‘ ان حالات میں آج تین نئے واقعات سامنے آئے‘ نیب نے نواز شریف کے خلاف دو نئے ضمنی ریفرنس دائر کر دئیے‘ میاں نواز شریف نے ان پر ردعمل دیا، نیب نے میاں نواز شریف‘ مریم نواز اور کیپٹن صفدر کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کی درخواست کر دی اور میاں نواز شریف نااہل ہونے کے بعد پارٹی کے قائد رہ سکتے تھے‘ سپریم کورٹ نے آج اس مسئلے پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ ہولڈ کر لیا‘ میرا خیال ہے اگر میاں نواز شریف کے خلاف یہ تین فیصلے بھی آ جاتے ہیں‘ انہیں پارٹی قیادت سے ہٹا دیا جاتا ہے‘ ان کا نام ای سی ایل پر آ جاتا ہے اور ان کے خلاف ضمنی ریفرنسز پر بھی عمل ہو جاتا ہے تو پھر میاں نواز شریف پارٹی کے قائد رہے بغیر اور جیل میں بند ہونے کے باوجود 2018ء کے الیکشن جیت جائیں گے‘

ان کی پارٹی اگلی حکومت بھی بنا لے گی‘ میاں نواز شریف نے آج اس صورتحال پرججزکو پیغام دیا، کیا واقعی میاں نوازشریف کا بیانیہ جیت رہا ہے‘ کیا یہ عوامی ریفرنڈم جیت رہے ہیں‘ کیا میاں نواز شریف کو مقدمے بازی کا فائدہ ہو رہا ہے اور کیا عوام واقعی عمران خان اور آصف علی زرداری کے بیانیے کو بائی نہیں کر رہے اور کیا ان دونوں کو بھی اپنا بیانیہ بدل لینا چاہیے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہو گا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…