ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

عمران خان بری طرح پھنس گئے ،بنی گالاکی رہائشگاہ بھی زد میں آگئی،عمران خان کے خوابوں کا محل گرائے جانے کا خدشہ،سپریم کورٹ نے بڑا حکم جاری کردیا

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)سپریم کورٹ آف پاکستان نے کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور متعلقہ یونین کونسل سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کی بنی گالا میں واقع رہائش گاہ کا اجازت نامہ اور دستاویزات طلب کرلیں۔ منگل کو چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ میں بنی گالا میں غیرقانونی تعمیرات سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا عمران خان نے اپنی پراپرٹی کی باؤنڈری کر لی ہے اور کیا عمران خان نے گھر کی تعمیر کی اجازت متعلقہ ادارے سے لی تھی۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ تعمیرات اور تجاوزات کے ایشو پر عمران خان کے وکیل بابر اعوان نے تعاون نہیں کیا جبکہ عدالت نے تمام فریقین کے ساتھ ملاقات کر کے تجاویز دینے کا کہا تھا۔ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے تجویز دی کہ ہر قسم کی تعمیر کو بنی گالا میں روک دیا جائے اور گیس اور بجلی کے محکموں کو بھی این او سی جاری کرنے سے روک دیا جائے۔بابر اعوان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بنی گالا میں تین قسم کی پراپرٹی ہے، نجی مالکان کو اپنی جائیداد کو مرضی سے استعمال کی اجازت ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بلڈنگ ریگولیشنز کی پابندی کرنا ہوگی تاہم بابر اعوان نے دلائل دیئے کہ ‘سی ڈی اے کا نجی پراپرٹی سے کوئی تعلق نہیں ٗاسلام آباد کارپوریشن کی 50 یونین کونسلز ہیں ٗ33 یونین کونسلز دیہی اور 17 شہری ہیں۔جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ عمران خان کا بنی گالا گھر کس یونین کونسل میں ہے؟ جس پر بابر اعوان نے آگاہ کیا کہ بنی گالا یونین کونسل 4 میں ہے۔بابر اعوان نے کہا کہ راول ڈیم کے ارد گرد تعمیرات غیر قانونی ہیں۔اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ آواز اٹھانے والے کا اپنا دامن بھی صاف ہوناچاہیے۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ بنی گالا تعمیرات اگر قانون کے دائرے میں ہیں توٹھیک ورنہ گرادیں۔ نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ نے آئندہ سماعت پر عمران خان کے گھر کا منظور شدہ نقشہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ بنی گالا میں تعمیرات کیلئے متعلقہ اداروں سے اجازت لینا ہوگی بغیر اجازت کے تعمیراتی کام پر پاپندی ہوگی۔ چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ وزیر مملکت کیڈ طارق فضل چودھری رضاکارانہ طور پر تین روزہ کیمپ لگائیں تاکہ فضلے کو راول ڈیم میں جانے سے روکا جاسکے۔ سماعت کے آخر میں سپریم کورٹ نے سی ڈی اے اور متعلقہ یونین کونسل سے عمران خان کے گھر کا اجازت نامہ اور دستاویزات طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔واضح رہے کہ گذشتہ برس مئی میں سی ڈی اے نے بنی گالا میں عمران خان کے گھر کی تعمیرات کو غیرقانونی قرار دے دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…