بدھ‬‮ ، 07 اکتوبر‬‮ 2026 

پاک چین دوستی کا انمٹ نشان سی پیک دائو پر لگ گیا، بڑے اسلامی عرب ملک نے گوادربندرگاہ کا مقابلہ کرنے کیلئے بھارتی فوج کو اپنی بندرگاہ دیدی

datetime 14  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے موقر قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بندرگاہ گوادر اور بحر ہند میں چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ سے خوف کھا کر اور مقابلہ کرنے کیلئے بھارت نے عرب ملک اومان سے انتہائی اہم بندرگاہ دوقم کی رسائی حاصل کر لی ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اس وقت عرب ملک اومان کے دورے پر ہیں جس دوران انہوں نے سلطان سید قابوس بن سید السید سے ملاقات کی اور اس موقع پر دونوں کے درمیان فوجی تعاون کا معاہدہ طے پا گیا ہے جس میں بھارت کو دوقم بندرگاہ

تک رسائی بھی دی گئی ہے۔ اخبار کی رپورٹ میں پاکستان کی مقامی ویب سائٹ کےذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اس معاہدے کے مطابق بھارتی جہازوں کی مرمت کیلئے دوقم پورٹ اور ڈرائےڈاک کی خدمات بھی بھارت کو حاصل ہونگی۔ دوقم کی بندرگاہ عمان کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع ہے دراصل یہ ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کے قریب ترین واقع ہے۔ حال ہی میں دوقم بندرگاہ پر بھارت کی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، گزشتہ سال ستمبر میں بھارت نے عرب سمندر کے مغرب میں اپنی آبدوز اسی بندرگاہ پر تعینات کی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…