ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

سینٹ الیکشن جذبات پر بھی بھاری پڑنے لگا،فیصل سبزواری پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے،فاروق ستار نے آنسو صاف کئے

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور رابطہ کمیٹی کی جانب سے نامزد امیدواروں نے سینیٹ کے لیے الگ الگ کاغذات نامزدگی جمع کرادیے۔سینیٹ امیدواروں کے ناموں پر رابطہ کمیٹی کے اراکین اور پارٹی سربراہ کے درمیان اختلافات اب تک برقرار ہیں۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے اراکین کی مخالفت کے باوجود کامران ٹیسوری کو سینیٹ امیدوار نامزد کیا اور انہوں نے

کاغذات نامزدگی بھی جمع کرادیے۔فاروق ستار کی جانب سے نامزد دیگر امیدواروں میں ٹیکنوکریٹ کی نشست کے لیے احمد چنائی اور حسن فیروز جب کہ جنرل کیٹیگری کے لیے خواجہ سہیل منصور، قمر منصور، علی رضا عابدی، شاہد پاشا اور عامر چشتی کے نام سامنے آئے ہیں۔خواتین کی خصوصی نشست پر نگہت شفیق اور منگلا شرما کے نام سامنے آئے ہیں۔دوسری جانب رابطہ کمیٹی کے نامزد امیدوار امین الحق، نسرین جلیل اور فروغ نسیم نے اپنے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کرادیے۔الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کے اراکین سے ملاقات کی، اس موقع پر فیصل سبزواری پارٹی سربراہ سے گلے مل کر آبدیدہ ہوگئے۔فاروق ستار نے اس موقع ہر ان کے آنسو صاف کئے ۔اس سے قبل پی آئی بی کالونی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہمارے نامزد کردہ امیدواروں کے نام فائنل ہیں جنہیں سب نے مبارکباد دی ہے۔امیدواروں کے ناموں کا اعلان کرتے ہوئے فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جنرل کیٹیگری کے لیے کامران

ٹیسوری کا نام سرفہرست ہے۔دوسری جانب رابطہ کمیٹی کے اراکین نے کامران ٹیسوری کے نام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا۔نسرین جلیل کا رابطہ کمیٹی کے دیگر اراکین کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ کامران ٹیسوری کے بیک گراؤنڈ میں بہت ساری چیزیں ہیں اور کچھ ایسے معاملات ہیں جن پر یہاں بات نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ ہمیں شخصیات پر نہیں جانا بلکہ پارٹی کو یکجا رکھنا ہے، چاہتے ہیں بہتر انداز سے معاملات حل ہوں۔واضح رہے کہ سینیٹ کی نشستوں کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا آج آخری روز ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…