ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

اثاثہ جات ریفرنس: پاناما جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء، اسحاق ڈار کے خلاف بطور گواہ پیش

datetime 8  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف اثاثہ جات ریفرنس کی سماعت کے دوران پاناما اسکینڈل کی تحقیقات کے لیے قائم ہونے والی جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیاء احتساب عدالت میں بطور گواہ پیش ہوئے تاہم اصل ریکارڈ موجود نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بیان ریکارڈ نہ ہوسکا۔احتساب عدالت کے جج محمد بشیر سابق وزیر خزانہ کے خلاف نیب ریفرنس کی سماعت کر رہے ہیں۔یاد رہے کہ 31 جنوری کو ہونے والی گذشتہ

سماعت کے دوران احتساب عدالت نے جے آئی ٹی سربراہ واجد ضیاء کو اسحاق ڈار کے خلاف بطور گواہ طلب کیا تھا۔سماعت کے آغاز پر جج محمد بشیر نے واجد ضیاء4 سے استفسار کیا، ‘آپ کے پاس جے آئی ٹی رپورٹ نہیں ہے؟واجد ضیاء نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ‘جے آئی ٹی رپورٹ کا اصل ریکارڈ موجود نہیں، تمام ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا تھا’۔ساتھ ہی ان کا کہنا تھا، ‘میرے پاس صرف کاپی ہے’۔جس پر احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیئے کہ ‘اصل ریکارڈ کے حصول کے لیے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط لکھا گیا تھا، دوبارہ یاددہانی کا خط بھجوا دیتے ہیں’۔ساتھ ہی معزز جج نے کہا کہ واجد ضیاء4 کا بیان 12 فروری کو ریکارڈ کر لیں گے۔جس کے بعد واجد ضیاء4 احتساب عدالت سے روانہ ہوگئے۔سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے پاناما کیس فیصلے کی روشنی میں نیب نے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثے بنانے کا ریفرنس دائر کیا ہے۔سپریم کورٹ کی آبزرویشن کے مطابق اسحاق ڈار اور ان کے اہل خانہ کے 831 ملین روپے کے اثاثے ہیں جو مختصر مدت میں 91 گنا بڑھے۔گذشتہ برس 27 ستمبر کو احتساب عدالت نے آمدن سے زائد اثاثوں کے نیب ریفرنس میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر فرد جرم عائد کی تھی تاہم اسحاق ڈار نے صحت جرم سے انکار کردیا تھا۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار 7 مرتبہ احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوچکے ہیں۔تاہم بعدازاں مسلسل غیر حاضری پر احتساب عدالت نے 11 دسمبر 2017 کو اسحاق ڈار کو اشتہاری ملزم قرار دے دیا تھا۔سابق وزیرخزانہ اِن دنوں علاج کی غرض سے بیرون ملک مقیم ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…