ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

کشمیر کا تنازعہ 70 سال بعد بھی صرف تنازعہ کیوں ،اصل وجہ کیا ہے؟1900ء سے پہلے دنیا میں صرف کتنے ممالک تھے؟نوازشریف نے مظفر آباد میں دھواں دھار تقریر کی لیکن کس کا نام زبان پر نہ لائے؟ہماری ترجیحات میں کیا خرابی ہے؟جاوید چودھری کاتجزیہ

datetime 5  فروری‬‮  2018 |

خواتین وحضرات ۔۔ کشمیر کا تنازعہ 70 سال بعد بھی صرف تنازعہ کیوں ہے‘ ہمیں ۔۔اس کے جواب کیلئے ذرا سا ماضی میں جانا ہو گا‘ سن 1900ء سے پہلے دنیا میں صرف 20 ملک تھے‘ سن 1900ء کے بعد یہ 20 ملک انچاس ہو گئے‘ لیگ آف نیشنز بنی تو یہ ملک تریسٹھ ہو گئے‘ 1945ء میں یو این کے ابتدائی ممبرز کی تعداد 50 تھی‘ 1961ء میں یہ ممبرز 104 ہو گئے‘ 1971ء میں یہ تعداد 132 اور 1990ء میں 159 ہو گئی‘ سوویت یونین ٹوٹا تو 15

نئے ملک بن گئے‘ 1999ء میں ایسٹ تیمور نے انڈونیشیا سے آزادی حاصل کر لی‘ 2006ء میں مونٹی نیگرو نے سربیا سے آزادی حاصل کرلی اور 2011ء میں جنوبی سوڈان سوڈان سے آزاد ہو گیا یوں یو این کے ممبرز کی تعداد 193 ہو گئی‘ آپ دیکھئے وقت (گزرنے) کے ساتھ ساتھ ملکوں کی تعداد میں ۔۔اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔۔لیکن کشمیر اور فلسطین دو تنازعے 70 سال بعد بھی تنازعے ہیں‘ یہ مسئلے آج بھی حل نہیں ہوئے‘ کیوں؟ ۔۔ اس کی وجہ ۔۔اس قسم کے رویئے ہیں ( نواز شریف/ آصف علی زرداری) جی ہاں ہماری قیادت کی ترجیحات میں کشمیر شامل ہی نہیں ہے‘ ہمارے لیڈرز 5 فروری کے دن یعنی یوم یکجہتی کشمیر پر بھی سیاست بازی کرتے ہیں‘ ہمیں آج کے دن تو اپنے گندے کپڑے نہیں دھونے چاہیے تھے‘ ہمیں آج تو صرف اور صرف کشمیر کی بات کرلینی چاہیے تھی لیکن آپ۔۔ان کو چھوڑیئے‘ آپ المیہ ملاحظہ کیجئے‘ پنجاب اسمبلی نے آج کشمیر کے مسئلے پر خصوصی اجلاس طلب کیا ‘ یہ اجلاس دو بجے ہوا ۔۔لیکن اڑھائی بجے تک ایوان میں صرف ایک (رکن) تھا‘ قرارداد کی منظوری کے وقت بھی 371 ارکان کے ایوان میں صرف 35 ایم پی ایز تھے‘ پارلیمنٹ کی کشمیر کمیٹی کے 2013ء سے اب تک صرف آٹھ اجلاس ہوئے اور (ان) ۔۔اجلاسوں میں بھی کام کی کوئی بات نہیں ہوئی‘ مولانا فضل الرحمن دس سال سے کشمیر کمیٹی کے چیئرمین ہیں‘ آپ کو آج کے دن بھی یہ چیئرمین کسی جگہ نظر نہیں آئے‘ پانچ فروری کی چھٹی‘ چند تقریریں اورمولانا فضل الرحمن یہ ہماری (کل) کشمیر پالیسی ہے‘ آپ سنجیدگی کا اندازہ کیجئے میاں نواز شریف نے آج مظفر آباد میں دھواں دھار تقریر کی ۔۔لیکن انہوں نے پوری تقریر میں غاصب انڈیا کا ذکر تک نہیں کیا‘ یہ اپنا رونا رو کر واپس آ گئے‘

آصف علی زرداری نے بھی یہ ہی کیا‘ کیا ہم ۔۔اس رویئے اور ترجیحات کے ۔۔اس (فقدان) کے ساتھ کشمیر کو آزاد کر سکیں گے‘ جی نہیں کیونکہ دنیا میں جب بھی کوئی مقدمہ ہارا جاتا ہے تو (اس) کی وجہ کمزور کیس ہوتا ہے یا پھر کمزور وکیل اور ہمارا کیس مضبوط ہے ۔۔لیکن ہم بطور وکیل بہت کمزور ہیں چنانچہ ایسٹ تیمور اور جنوبی سوڈان آزاد ہو گئے‘ دنیا 20 ملکوں سے 245 ہوگئی ۔۔لیکن کشمیر کے عوام آج بھی آزادی تلاش کر رہے ہیں۔
ہماری ترجیحات میں کیا خرابی ہے‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…