ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

گلگت :سی پیک منصوبے کو 400 بھارتی تخریب کاروں سے خطرہ،وفاقی وزارت داخلہ

datetime 5  فروری‬‮  2018 |

گلگت(آن لائن) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے گلگت بلتستان (جی بی) کے وزارت داخلہ کو خبر دار کیا کہ بھارت، پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کی تنصیبات پر حملے کرواسکتا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پیر کو وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ تنبیہ نامہ میں کہا گیا کہ متعلقہ حکام سیکیورٹی سخت کریں ۔جی بی وزارتِ داخلہ کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے گلگت بلتستان کو لیٹر نمبر 221/آئی ایس

2018 موصول ہوا ہے جس میں بھارت کی جانب سے سی پیک پر ممکنہ حملے کی پیش گوئی کی گئی۔لیٹر میں آگاہ کیا گیا کہ بھارت نے 400 نوجوان مسلمانوں کو افغانستان میں ٹریننگ کے لیے بھیجا جنہیں سی پیک کے ذیلی منصوبے مثلاً قراقرم ہائی وے (کے کے ایچ) اور دیگر اہم تنصیبات پر حملے کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔لیٹر موصول ہونے کے بعد گلگت بلتستان حکومت نے سی پیک پر سیکیورٹی سخت کردی۔واضح رہے کہ کے کے ایچ شاہراہ خنجراب پاس سے دیامیر ضلع تک پھیلی ہے جس پر دو درجن سے زائد پل تعمیر کیے گئے ہیں۔گلگت بلتستان کے ہوم سیکریٹری جاوید اکرام، انسپکٹر جنرل آف پولیس صابر احمد اور دیگر پولیس سمیت خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے دیامیر ضلع کا دورہ کیا اور سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لیا۔آئی جی پی صابر احمد نے بریفنگ دی کہ جی بی میں غیر ملکیوں کی نقل و حرکت پر خصوصی نظر رکھی جارہی ہے۔اسی دوران آئی جی پی نے گلگت ، دیا میر اور بلتستان کے ڈی آئی جیز کو ممکنہ بھارتی شر پسند ی کے حوالے سے خصوصی ہدایات جاری کیں اور کے کے ایچ پر خصوصی طور پر سیکیورٹی اہلکاروں کی تعینیاتی کو یقینی بنائیں۔گلگت کے ایس ایس پی رانا منصور الحسن حق نے نجی ٹی وی کو بتایا کہ دفاع اداروں کے تعاون سے سی پیک کی فل

پروف سیکیورٹی سے متعلق اقدامات اٹھائے جارے ہیں۔گلگت پولیس نے دعویٰ کیا کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے تعاون سے سی پیک منصوبے کو سبوتاڑ کرنے اور پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دینے کے لیے تیار منصوبے کو ناکام بنایا تھا۔جی بی پولیس نے بلاوارستان نیشنل فرنٹ سے تعلق رکھنے والے 12 ورکرز کو ضلع گزری کی یاسین ویلی سے حراست میں لیا اور ان کے قبضے سے وافر مقدار میں اسلحہ بھی برآمد کیا۔پولیس نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتارلوگوں کو ’را‘ نے فنڈنگ کی تھی تاکہ گلگت بلتستان میں بدامنی پھیلائی جائے اور سی پیک منصوبوں کو سبوتاڑکیا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…