ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

عاصمہ کی بہن خیبر پختونخوا پولیس کا بھیانک چہرہ سامنے لے آئی،اندرون خانہ کیا کھیل کھیلا جارہا ہے،جانئے

datetime 5  فروری‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)کوہاٹ میں قتل کی گئی میڈیکل کالج کی طالبہ عاصمہ رانی کی بہن صفیہ رانی کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا پولیس ان پر بیان واپس لینے کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے۔برطانیہ کی کاؤنٹی بیڈفورڈشائر کے علاقے لوٹن میں مقامی پختون جرگے میں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے صفیہ رانی نے بتایا کہ کے پی پولیس دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ اپنا یہ بیان واپس لیں کہ پولیس پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما کے

بھانجے مجاہد آفریدی کی دھمکیوں سے آگاہ تھی اور اس نے ہماری فیملی کی کوئی مدد نہیں کی اور نہ ہی ملزم کو ملک سے فرار ہونے سے روکنے کی کوئی کوشش کی۔صفیہ رانی نے کہا کہ ایک ہفتہ گزر جانے کے باوجود کے پی حکومت ان کی بہن کے قاتل کو گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر قصور کی زینب کے قاتل تیزی سے گرفتار کیے جاسکتے ہیں تو ان کی بہن کاقاتل کیوں نہیں پکڑا جاسکتا؟مقتولہ عاصمہ کی بہن صفیہ نے کہا کہ ‘کے پی پولیس اور حکومت نے کئی مرتبہ مجھ سے رابطہ کیا اور بار بار مجھ سے یہی کہا کہ کے پی پولیس کی کارکردگی کے حوالے سے کوئی بیان نہ دوں اور اپنا پہلا بیان بھی واپس لے لوں’۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ‘جب تک قاتل مجاہد آفریدی کو گرفتار کرکے پھانسی نہیں دی جاتی میں خاموش نہیں بیٹھوں گی، میرا مقصد صرف انصاف کا حصول ہے’۔واضح رہے کہ اس سے قبل صفیہ رانی نے جیو نیوز سے گفتگو میں کہا تھا کہ ان کی بہن عاصمہ رانی کو ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت قتل کیا جبکہ مجاہد آفریدی نے پہلے سے ہی سعودی عرب کا ویزہ حاصل کر رکھا تھا۔صفیہ رانی نے کہا کہ مجاہد آفریدی نے پہلے بھی عاصمہ کو راستے میں روکا اور پرس چھینا تھا، جس کے بعد والدہ نے عاصمہ کو ملنے والی قتل کی دھمکیوں سے پولیس کو آگاہ کیا تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما آفتاب عالم کو علم تھا کہ ان کا بھتیجا عاصمہ کو دھمکیاں دے رہا ہے۔یاد رہے کہ 28 جنوری کو کوہاٹ میں تحریک انصاف کے ضلعی صدر آفتاب عالم کے بھتیجے مجاہد نے رشتے سے انکار پر ایبٹ آباد میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ایم بی بی ایس تھرڈ ایئر کی طالبہ عاصمہ رانی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا۔ملزم مجاہد میڈیکل کالج کی طالبہ کو قتل کرنے کے فوری بعد

اسلام آباد کے بینظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئر پورٹ سے غیر ملکی پرواز کے ذریعے سعودی عرب فرار ہو گیا تھا۔جس کے بعد خیبر پختونخوا پولیس نے ملزم مجاہد آفریدی کی گرفتاری کے لیے سعودی انٹرپول سے مدد طلب کر رکھی ہے۔ہفتہ 2 فروری کو پولیس نے عاصمہ کے قتل کے مفرور ملزم مجاہد آفریدی کے دوست اور معاون شاہ زیب کو گرفتار کیا تھا، جو عاصمہ کی جاسوسی کیا کرتا تھا، قتل کے وقت بھی وہ ملزم مجاہد کے ساتھ ہی تھا اور اسی نے واردات کے بعد مجاہد کو فرار ہونے میں مدد فراہم کی تھی۔قبل ازیں عاصمہ کے قتل میں گرفتار ایک اور ملزم صادق اللہ کی نشاندہی پر قتل میں استعمال ہونے والا پستول بھی برآمد کیا جاچکا ہے۔دوسری جانب چیف جسٹس سپریم کورٹ میاں ثاقب نثار نے بھی عاصمہ کے قتل کا ازخودنوٹس لے رکھا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…