جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

ٹرمپ کے تند و تیز بیانات اور پاکستان کے سخت جواب کے بعدبات حد سے زیادہ بڑھ گئی، امریکہ پاکستان پر حملے کیلئے تیار،امریکی کمانڈرز کو بڑا حکم جاری،خطرے کی گھنٹی بج گئی

datetime 1  فروری‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک ) وائٹ ہاؤس نے کہاہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی ایشیائی پالیسی کے تحت پاکستان اور افغانستان میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کے لیے خطے میں موجود امریکی کمانڈرز کو ضروری وسائل اور اختیارات دے دئیے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق وائٹ ہاؤس سے جاری بیان میں کہاگیاکہ خطے میں موجود امریکی کمانڈرز کو پاکستان میں موجود مبینہ محفوظ پناہ گاہوں سے نمٹنے کے لیے تمام اختیارات ہوں گے۔

بیان میں کہا گیا کہ ٹرمپ انتطامیہ کی مشروط جنوبی ایشیائی پالیسی کے تحت پاکستان اور افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کی محفوظ پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے لیے وہ تمام وسائل فراہم کیے جائیں گے جو امریکی کمانڈرز کو ضروری ہوں گے۔دریں اثناء امریکہ نے کہاہے کہ وہ پاکستان کی حمایت حاصل کرنے میں مصروف اورمذاکرات کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق امریکی ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ جوہن جے سلیوان نے ٹرمپ انتظامیہ کی جنوبی اشیائی پالیسی کے بارے میں تفصیلات بتاتے ہوئے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اس پالیسی پر عملدرآمد کے لیے امریکہ پاکستان کی حمایت حاصل کرنے میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی افغانستان میں موجود طالبان، انتہا پسند عناصر اور دہشت گرد گروپوں سے ہے اور نئی ایشیائی حکمت عملی خطے کی پالیسی ہے ، جس کی توجہ افغانستان میں حالات کی بہتری ہے لیکن اس یہ پالیسی وسیع علاقائی نقطہ نظر رکھتی ہے، جس میں پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک کے ساتھ علاقائی تعاون شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ مذاکرات کا عمل جاری رکھیں گے اور ہماری اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوبی ایشیائی پالیسی کے تحت پاکستان کے بارے میں توقعات واضح ہیں۔امریکی ڈپٹی سیکریٹری اسٹیٹ کا کہنا تھا کہ ہم افغان حکومت کے پاکستان کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات جاری رکھنے کے عمل کی تائید کرتے ہیں اور پاکستان کو مسئلے کے حل کا حصہ بننا ضروری ہے اور یہی ہماری جنوبی ایشائی پالیسی کا مرکز ہے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…