ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

جو کرنا ہے کر لو۔۔! چیف جسٹس کی جانب سے ’’میمو گیٹ‘‘ فائل طلب کیے جانے پر حسین حقانی نے ایسا جواب دے دیا کہ کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا

datetime 31  جنوری‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) حسین حقانی نے کا کہنا ہے کہ دنیا میں مزید مذاق بنوانا ہے تو نوٹس بھیج کر وقت ضائع کر لیں، تفصیلات کے مطابق امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ آیا تھا تو کیا تیر مار لیا تھا ٹکر پر ادارہ چلانے والوں نے؟ دنیا بھر میں پہلے ہی کافی مذاق اڑ چکا۔ مزید مذاق اڑوانا ہے تو نوٹس بھیج کر وقت ضائع کر لیں،

پہلے بھی پہاڑ کھودا تو چوہا ہی برآمد ہوا تھا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ایک ایسے پاکستانی بھی ہیں جو عدالت سے وعدہ کرکے واپس نہیں آئے، چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ حسین حقانی کدھرگیا؟کیا وہ بھی ووٹ ڈالیں گے؟ کیوں نہ حسین حقانی کو بلالیں اکہ وہ یہاں آکر میمو گیٹ کا سامناکریں،چیف جسٹس نے اس موقع پر میمو گیٹ سکینڈل کیس کی فائل طلب کرلی، حسین حقانی امریکہ میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں اور ملک کی بڑی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی سے ان کاتعلق ہے میمو گیٹ سکینڈل کے بعد وہ جنوری2012ئمیں تحریری یقین دہانی پر ملک سے باہرگئے لیکن پھر کبھی واپس نہ آئے۔واضح رہے کہ حسین حقانی نے گزشتہ روزچیف جسٹس کے اس بیان پر کہ ’’ہم اپنے فیصلے ضمیر کے مطابق کرتے ہیں‘‘ ٹوئٹر پر انتہائی متنازعہ تبصرہ کیاتھا کہ ’’یہ ضمیر صاحب میجر جنرل ہیں یا لیفٹیننٹ جنرل؟‘‘ حسین حقانی نے چیف جسٹس کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہاتھا کہ ’’جج صاحبان کا کام قانون کے مطابق فیصلہ دینا ہے،ضمیر صاحب کے کہنے پر نہیں‘‘ امریکہ میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں کہا کہ آیا تھا تو کیا تیر مار لیا تھا ٹکر پر ادارہ چلانے والوں نے؟ دنیا بھر میں پہلے ہی کافی مذاق اڑ چکا۔ مزید مذاق اڑوانا ہے تو نوٹس بھیج کر وقت ضائع کر لیں،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…