ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کی جانب سے افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے 27 مشتبہ افراد افغانستان کے حوالے کرنے کے بیان پر افغان سفیر کا حیرت انگیز ردعمل سامنے آگیا

datetime 31  جنوری‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں افغانستان کے متحرک سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے وزارت خارجہ کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان نے گذشتہ نومبر افغان طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے 27 مشتبہ افراد افغانستان کے حوالے کیے ہیں۔اپنے ٹوئٹر اکاونٹ سے ردعمل میں افغان سفیر نے کہا کہ یہ میرے لیے ایک خبر ہے۔اس کا مطلب ہے کہ وہ بھی اس تبادلے سے آگاہ نہیں تھے۔انہوں نے کہاکہ اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ دو طرفہ تعلقات میں ایک انتہائی بڑی پیش رفت ہوگی۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت

سامنے آیا ہے جب افغانستان کے وزیر داخلہ ویس احمد برمک اور خفیہ افغان ایجنسی این ڈی ایس کے سربراہ محمد معصوم ستانکزئی اسلام آباد میں پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور فوجی قیادت سے بات چیت کیلئے یہاں موجود ہیں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ شاید ان افراد کو بھی اس تبادلے کی خبر نہیں تھی۔پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے اعلیٰ افغان وفد کی موجودگی کی تصدیق ایک ٹویٹ کے ذریعے کرتے ہوئے کہا کہ یہ وفد افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی کا خصوصی پیغام لے کر اسلام آباد آیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…