ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

قصور ویڈیو سکینڈل، 2015ء میں گرفتار ہونیوالے 17 ملزمان کو کیا سزا دی گئی؟ زیادتی کا نشانہ بنائے جانیوالے 284 بچوں کے ساتھ کیا ہوا؟ لرزہ خیز انکشافات

datetime 26  جنوری‬‮  2018 |

قصور (مانیٹرنگ ڈیسک)سات سالہ زینب کے قتل نے قصور ویڈیو سکینڈل کو بھی دوبارہ ہوا دے دی ہے، پورے ملک میں جہاں زینب کا افسوسناک واقعہ زیر بحث ہے تو وہاں قصور میں2015 کے ویڈیو سکینڈل کی تفصیلات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں ، قصور میں دو سو چوراسی بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کا سکینڈل اگست 2015ء میں سامنے آیا۔ ملزمان جہاں بچوں کواپنی ہوس کا نشانہ بناتے رہے،

وہیں انہیں اسلحے کے زور پر ایک دوسرے سے بدفعلی کرنے پر بھی مجبور کرتے رہے۔ ملزمان نے بچوں کی چار سو سے زائد ویڈیوز بنائیں اور پچاس پچاس روپے کے عوض گاؤں حسین خاں والا میں فروخت کیں۔ ایک خاتون نے اپنے چودہ سالہ بیٹے کی ویڈیو ختم کرنے کے لئے بلیک میلرز کو ساٹھ ہزار روپے ادا کیے۔ اس بارے میں قصورکے ایک دیہاتی نے بتایا کہ اس گھناؤنے عمل کے ملزم یہ ویڈیوز بنا کر برطانیہ، امریکہ اور یورپ میں فروخت کرتے تھے؛ تاہم مقامی ایم پی اے کے دباؤ پر پولیس نے پچاس لاکھ روپے لے کر کیس کے مرکزی ملزم کو رہا کر دیا اور مقامی سیاستدان متاثرہ افراد پر کیس واپس لینے کیلئے دبا ؤ ڈالتے رہے۔ان جنسی درندوں نے چھ سے دس سال کے بچوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا، جب یہ سکینڈل سامنے آیا تو اس وقت میڈیا نے بھی بہت شور مچایا لیکن بعد میں پکڑے گئے 17 ملزمان باری باری چھوڑ دیے گئے، اس واقعہ میں زیادتی کا نشانہ بنانے والے بچوں اور ان کے خاندان کی زندگیاں تباہ ہو کر رہ گئیں ملزمان نے انہیں دھمکیاں دیں اور رہا ہونے کے بعد یہ غیر اخلاقی ویڈیوز معاشرے میں پھیلا دیں ، یہاں تک کہ کئی لڑکے اپنا گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گئے اور ان بچوں کے گھر والے ابھی تک ان کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔  اس واقعہ میں زیادتی کا نشانہ بنانے والے بچوں اور ان کے خاندان کی زندگیاں تباہ ہو کر رہ گئیں ملزمان نے انہیں دھمکیاں دیں اور رہا ہونے کے بعد یہ غیر اخلاقی ویڈیوز معاشرے میں پھیلا دیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…