ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

زینب کے ایشو پر جتنے قہقہے لگنے تھے لگ چکے، اب ہم سب کو مل کر کیا کام کرنا چاہیے کہ پاکستان کی ہر بچی محفوظ ہو جائے؟ 13 ملک چائلڈ پورنو گرافی کے خلاف اکٹھے ہو سکتے ہیں تو وفاقی حکومت ان تینوں ایشوز پر چاروں صوبوں کو اکٹھا کیوں نہیں کر سکتی؟ جاوید چودھری کا تجزیہ

datetime 25  جنوری‬‮  2018 |

بچوں کی پورنو گرافی کے خلاف دنیا کا سب سے بڑا آپریشن مارچ 2011ء میں ہوا تھا‘ ایک انٹرنیشنل ریکٹ یورپ کے 13 ملکوں میں چائلڈ پورنوگرافک نیٹ ورک چلا رہا تھا‘ یہ لوگ ویڈیوز بنا کر ویب سائیٹ پر اپ لوڈ کرتے تھے‘ ویب سائیٹ کے 70 ہزار ممبرز تھے‘ یہ لوگ پے کرکے یہ ویڈیوز دیکھتے تھے‘ برطانوی پولیس کو 2008ء میں ریکٹ کا پتہ چلا‘ پولیس نے 2009ء میں ویب سای مالکان کو ٹریس کیا‘ 13 ملکوں کی پولیس کا مشترکہ یونٹ بنا‘

چار ہزار202 انٹیلی جینس رپورٹ کا تبادلہ ہوا‘ 670 مشکوک لوگ سامنے آئے‘ ان لوگوں کی ریکی کی گئی‘184 لوگ ملوث پائے گئے‘ ہالینڈ نے ویب سائیٹ کا آن لائین سافٹ ویئر ری ۔۔بلٹ کیا‘ سرور کا فرانزک تجزیہ کیا اور پھر ایک رات 13 ملکوں میں آپریشن ہوا‘ 184 مجرم پکڑے گئے ‘ 230 بچے ریسکیو ہوئے‘ اس سارے عمل پر تین سال لگ گئے ۔۔لیکن یورپ کے 13 ملکوں سے یہ عفریت جڑ سے ختم ہو گیا۔ ہم زینب کے ایشو پر جتنی سیاست کرنا چاہتے تھے‘ ہم نے کر لی‘ چیف جسٹس نے جتنے نوٹس لینے تھے لے لئے‘ علامہ طاہر القادری نے جتنی تقریریں کرنی تھیں کرلیں‘ اپوزیشن نے قصور کے دورے کر لئے‘ میڈیا نے ڈھول پیٹ لیا‘ عوام نے جتنا رونا دھونا تھا ‘ رو دھو لیا اور وزیراعلیٰ پنجاب اوران کے شائننگ سٹارز نے جتنی تالیاں بجانی تھیں بجا لیں‘ جتنے قہقہے لگانے تھے لگا لئے‘ اب ہم سب کو مل کر وہ کام بھی کرنے چاہئیں جن کے بعد پاکستان کی ہر بچی محفوظ ہو جائے‘ جن کے بعد کسی بچی کے اغواء پر چیف جسٹس‘ وزیراعلیٰ اور میڈیا کو نوٹس نہ لینے پڑیں‘ سسٹم خود بخود ایکٹو ہو جائے‘ میری درخواست ہے وفاقی حکومت کو فوری طور پر چاروں صوبوں کے ساتھ مل کر ایک اینٹی کرائم نیشنل ایکشن پلان بنانا چاہیے‘ یہ پلان تین حصوں پر مشتمل ہو‘ ماورائے عدالت قتل‘ بچوں سے زیادتی اور مسنگ پرسنز۔ اگر 13 ملک چائلڈ پورنو گرافی کے خلاف اکٹھے ہو سکتے ہیں تو وفاقی حکومت ان تینوں ایشوز پر چاروں صوبوں کو اکٹھا کیوں نہیں کر سکتی تاکہ ملک میں آئندہ کسی زینب کے والدین‘

کسی نقیب اللہ‘ کسی انتظار احمد اور کسی مقصود احمد کے اہل خانہ کو ماورائے عدالت قتل اور کسی آمنہ مسعود جنجوعہ کو مسنگ پرسنز کے ایشو پر احتجاجی کیمپ نہ لگانا پڑے ‘ کیا ہماری وفاقی حکومت یہ پلان بھی نہیں بنا سکتی‘ یہ ہمارا آج کا ایشو ہوگا جبکہ کراچی پولیس نے 20 جنوری کو ایک محنت کش مقصود کوشاہراہ فیصل پر گولی مارکر ہلاک کر دیاتھا‘ اس کے خون کا بدلہ کون دے گااور ملک میں ایک نئی بحث چل رہی ہے‘ ملزم عمران علی کو سرعام پھانسی دی جائے‘ کیا یہ ہونا چاہیے‘ ہم یہ بھی ڈسکس کریں گے‘ ہمارے ساتھ رہیے گا۔

عمران زینب کو قتل کرنے کے بعد اپنے گھر لے آیا اور اسکی لاش اپنے بستر میں رکھی، قاتل کی ماں سب دیکھتی رہی اوراسکی دادی نے مجھے۔۔ زینب کی والدہ نے سنسنی خیز انکشافات کرتے ہوئے کیا مطالبہ کر ڈالا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…