ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

سب کئے کرائے پر پانی پھر گیا،ڈی این اے کی بنیاد پر زینب کے قاتل عمران کو سزائے موت نہیں ہوسکتی،جانئے کیوں

datetime 25  جنوری‬‮  2018 |

لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)زینب کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والے جنسی درندے عمران کو جہاں سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ زور پکڑتا جارہا ہے وہیں اس کیس میں قانونی پیچیدگیاں بھی سامنے آرہی ہیں ۔ زینب قتل کیس میں پنجاب حکومت اور سینئر تفتیشی پولیس افسران گرفتار ملزم عمران علی کے ڈی این اے کو لیکر تذبذب کا شکار ہیں ۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق آج سے دو سال پہلے 2016میں سپریم کورٹ کے فل بینچ نے فیصلہ دیتے ہوئے تحریر کیا تھا کہ جب دیگر مہیا کی گئی بڑی تعداد میں شہادتوں کو نا قابل یقین سمجھا جائے تو ڈی این اے پر اعتماد کرتے ہوئے ملزم کو سزائے موت نہیں دی سکتی اس سے پہلے بھی اس قسم کے کیس میں دو ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا ۔سینئر پولیس افسران کی جانب سے بتایا گیا کہ ملزم عمران علی کو ڈی این اے میچنگ کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے اس کے علاوہ ملزم کا پولی گرافک ٹیسٹ بھی کیا گیا ہے جسے بطور بنیادی شہادت بنا کر ملزم کا چالان نہیں کیا جا سکتا ۔تاہم پولی گرافک ٹیسٹ معاون شہادت کے طور پر استعمال ہو سکتا ہے لیکن پھر بھی اسے بنیاد بنا کرعمران کو سزا نہیں دی سکتی ۔کیس کا فیصلہ کیا ہوگا یہ وقت ہی بتائے گا لیکن  زینب کے قاتل کو عبرتناک سزا دیکر ایک مثال قائم کی جانی چاہئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…