ہفتہ‬‮ ، 22 اگست‬‮ 2026 

پانچ سالہ پاکستانی بچی متحدہ عرب امارات میں زندگی اور موت کی کشمکش میں، فوری مدد نہ کی گئی تو زندہ نہیں رہ پائے گی، باپ نے دنیا بھر کے مخیر افراد سے مدد کی اپیل کر دی

datetime 15  جنوری‬‮  2018 |

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) دل انسانی جسم کا اہم جزو ہے جس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا اگر دل ہی کام کرنا چھوڑ جائے تو انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے، ایک پانچ سالہ پاکستانی بچی جس کا نام اُم عروہ ہے کا دل تبدیل کیا جانا لازمی قرار دیا گیا ہے، اس کا دل پیدائشی طور پر ایک گیند کی شکل میں ہے۔ گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2013ء میں اس کی ایک اوپن ہارٹ سرجری ہو چکی ہے لیکن دل کی حالت اتنی زیادہ خراب ہے کہ اس

کے مزید آپریشن یا دل کی تبدیلی کیے بغیروہ زندہ نہیں رہ پائے گی۔ اس بچی کے والد عرفان عالم نے کہا کہ وہ اب تک اپنی بچی کے علاج پر ایک کروڑ 35 لاکھ روپے خرچ کر چکے ہیں اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں بالکل بے روزگار ہیں، عرفان عالم نے کہا کہ اس وقت ان کے پاس بچی کا علاج کرنے کے لیے کچھ نہیں بچا ہے، انہوں نے بتایا کہ ان کا بہترین کاروبار تھا مگر بچی کے علاج کی بدولت ان کے پاس کچھ نہیں بچا، کاروبار بھی ٹھپ ہو گیا، عرفان عالم نے بتایاکہ وہ اپنی اہلیہ اور تین بیٹیوں کے ہمراہ پاکستان میں سب کچھ بیچ کر متحدہ عرب امارات میں منتقل ہوا مگر اب ان کے ویزوں کی مدت بھی ختم ہو چکی ہے اور کوئی نوکری بھی نہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اُمِ عروہ کے فوری طور پر مزید آپریشنز یا ہارٹ ٹرانسپلانٹ کرنا ہو گا۔ عرفان عالم نے پاکستان ایسوسی ایشن دبئی اور مخیر حضرات سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کی بچی کو بچانے میں اس کی مدد کریں۔ پاکستانی بچی جس کا نام اُم عروہ ہے کا دل تبدیل کیا جانا لازمی قرار دیا گیا ہے، اس کا دل پیدائشی طور پر ایک گیند کی شکل میں ہے۔ گلف نیوز نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2013ء میں اس کی ایک اوپن ہارٹ سرجری ہو چکی ہے لیکن دل کی حالت اتنی زیادہ خراب ہے کہ اس کے مزید آپریشن یا دل کی تبدیلی کیے بغیروہ زندہ نہیں رہ پائے گی۔ اس بچی کے والد عرفان عالم نے کہا کہ وہ اب تک اپنی بچی کے علاج پر ایک کروڑ 35 لاکھ روپے خرچ کر چکے ہیں اور اس وقت متحدہ عرب امارات میں بالکل بے روزگار ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)


مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…