پیر‬‮ ، 29 جون‬‮ 2026 

سیاسی جماعتیں ٹویٹس کے ذریعے نہیں چلائی جاتیں، عدلیہ مخالف تحریک چلائی گئی تو کیا کروں گا؟چودھری نثار نے دھماکہ خیز اعلان کردیا

datetime 22  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اور سابق وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتیں ٹویٹس کے ذریعے نہیں چلائی جاتیں، اس بات پر اطمینان اور خوشی ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں اظہار رائے کی جتنی آزادی ہے اور کسی جماعت میں نہیں ہے، اس وقت جوش سے زیادہ ہوش سے فیصلے کرنے کی اشد ضرورت ہے،ایسے شخص کو سیاستدان نہیں سمجھتا جس نے

کبھی لوکل کونسلر کا الیکشن بھی نہ لڑا ہو۔کوئی سیاسی کارکن عدلیہ مخالف تحریک کا حصہ بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔نجی ٹی وی کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ایک سیاسی جماعت ہی نہیں بلکہ ایک جمہوری پارٹی بھی ہے، انہوں نے کہا کہ میری مسلم لیگ (ن) سے 33 سالہ رفاقت کی بنیاد بھی یہی ہے، مجھے اس بات پر اطمینان اور خوشی ہے کہ مسلم لیگ (ن) میں اظہار رائے کی جتنی آزادی ہے وہ کسی اور پارٹی میں نہیں، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بطور سیاسی اور حکمران جماعت انتہائی نازک دور سے گزر رہی ہے، اس وقت جوش سے زیادہ ہوش سے فیصلے کرنے کی اشد ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ شہباز شریف کی وزیر اعظم نامزدگی کا فیصلہ اس وقت اچھا ثابت ہوسکتا ہے جب انہیں ان کی سوچ اور صلاحیت کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ٹویٹس کے ذریعے نہیں چلائی جاتیں، کوئی سیاسی کارکن عدلیہ مخالف تحریک کا حصہ بننے کا سوچ بھی نہیں سکتا، انہوں نے کہا کہ میں تصادم کی پالیسی کے خلاف ہوں، ہمیں غیر ضروری تنازعات میں الجھنے سے گریز کرتے ہوئے تمام توجہ سیاسی مخالفین پر رکھنی چاہئے، انہوں نے کہا کہ میں ایسے شخص کو سیاستدان ہی نہیں سمجھتا جس نے کبھی لوکل کونسل کا الیکشن بھی نہ لڑا ہو،

ایسے لوگوں کو مشورہ دینے کا حق ہے لیکن رائے مسلط کرنے کی گنجائش نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اداروں کو نشانہ بنانے کا بیانیہ دینے والے غیر سیاسی عناصر کسی صورت عوام میں پذیرائی حاصل نہیں کرسکتے اور نہ ہی غیر سیاسی لوگوں کے فیصلے مسلط ہونے سے پارٹیوں کی ساکھ بہتر ہوتی ہے، انہوں نے کہا کہ موجودہ صورت ال ، آئندہ انتخابات کے تناظر میں انتہائی ضروری ہو گیا ہے کہ مسلم لیگ (ن) ایک انتہائی موثر اور متفقہ بیانیہ وضع کرے۔ یہ ایک ایسا بیانیہ ہونا چاہئے جس میں سیاست معیشت اور ملک کے قومی مسائل کے حل کے خاکے کیساتھ ساتھ اپنی ساڑھے چار سالہ کارکردگی کا عکس بھی موجود ہو۔ ایسا بیانیہ ہی ہمیں آئندہ الیکشن میں عوامی حمایت حاصل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قومی بیانیہ بین الاقوامی حالات و واقعات اور کئی اطراف سے ملک پر بالواسطہ اور بلا واسطہ دباؤ کی وجہ سے اور بھی زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



دنیا کا سب سے بڑا غار


چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…