اتوار‬‮ ، 23 اگست‬‮ 2026 

پیراڈائز لیکس میں شامل پاکستانیوں کی شامت آگئی ،بڑا قدم اٹھالیا گیا

datetime 29  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(اے این این ) فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے پیراڈائیز لیکس میں شامل 31 پاکستانیوں کی ایف آئی اے، ایس ای سی پی اور اسٹیٹ بنک سے تفصیلات طلب کرلیں۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ایف آئی اے سے ان افراد کا گزشتہ 10 سال کا سفری رکارڈ طلب کیا گیا ہے جبکہ ایس ای سی پی سے ان افراد کی جانب سے رجسٹرڈ کروائی گئی کمپنیوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ایف آئی اے اور ایس ای سی پی نے 13افراد کی تفصیلات ایف بی آر کو فراہم

کر دی ہیں۔ان میں سے اکثر کے پاس ایک سے زیادہ پاسپورٹ ہیں جبکہ ایس ای سی پی کے مطابق ان افراد نے 86 کمپنیاں رجسٹرد کروا رکھی ہیں۔خیال رہے کہ رواں ماہ کے آغاز میں پاناما پیپرز پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فونسیکا نے پیراڈائز پیپرز جاری کیے تھے جن میں میں پاکستان سمیت 47 ممالک کے متعدد افراد کے نام شامل تھے۔پیراڈائز لیکس میں سابق وزیراعظم شوکت عزیز، نیشنل انشورنس کارپوریشن لمیٹڈکے سابق چیئرمین ایاز خان نیازی، صدر الدین ہاشوانی، میاں منشا، ڈائریکٹ ٹو ہوم (ڈی ٹی ایچ) لائسنس کی کامیاب بولی دینے والے ظہیر الدین، سونیری بینک کے مالک نورالدین فیراستا، چیئرمین داد ہرکولیس کارپوریشن حسین داد اور دیگر نامور پاکستانیوں کی شناخت سامنے آئی ہے جنہوں نے آف شور سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔پیراڈائز لیکس میں ایک کروڑ 34 لاکھ دستاویزات شامل ہیں اور اس کام کے لیے 67 ممالک کے 381 صحافیوں کی خدمات حاصل کی گئیں۔پیراڈائز لیکس کا بڑا حصہ کمپنی ایپل بائی کی دستاویزات پر مشتمل ہے اور یہ دستاویزات سنگاپور اور برمودا کی دو کمپنیوں سے حاصل ہوئی ہیں۔ پیرا ڈائز پیپرز پہلے جرمن اخبار نے حاصل کیے اور آئی سی آئی جے کے ساتھ شیئر کیے۔ان میں 180 ممالک کی 25 ہزار سے زائد کمپنیاں، ٹرسٹ اور فنڈز کا ڈیٹا شامل ہے۔

پیراڈائز پیپرز میں 1950 سے لے کر 2016 تک کا ڈیٹا موجود ہے ۔پیراڈائز پیپرز میں جن ممالک کے سب سے زیادہ شہریوں کے نام آئے ہیں ان میں امریکا 25 ہزار 414 شہریوں کے ساتھ سرفہرست ہے۔ برطانیہ کے 12 ہزار 707 شہری، ہانگ کانگ کے 6 ہزار 120شہری، چین کے 5 ہزار 675 شہری اور برمودا کے 5 ہزار 124 شہری شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…