بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

چوتھی بڑی سیاسی قوت منظر عام پر،پرویز مشرف نے پاکستان عوامی اتحاد کے نام سے اہم سیاسی جماعتوں پر مشتمل نئے سیاسی پلیٹ فارم کااعلان کردیا

datetime 10  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

دبئی(مانیٹرنگ ڈیسک) سابق صدر مملکت جنرل (ر) پرویز مشرف نے پاکستان عوامی اتحاد کے نام سے نئے سیاسی پلیٹ فارم کااعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مہاجروں کو اکھٹا ہونا چاہیے،ہم جو اتحاد بنا رہے ہیں اس میں ایم کیو ایم اور پی ایس پی کو شریک ہونے کی دعوت دیتا ہوں،مجھے امید ہے (ق) لیگ بھی اس اتحاد کا ساتھ دے گی، میں پاگل نہیں جو ایک لسانی جماعت ایم کیو ایم کا سربراہ بن جاؤں گا،حالات میں تبدیلی آرہی ہے اور اس کے مطابق پاکستان جاؤں گا،

اس موقع پر حکومت سے کسی قسم کی سکیورٹی نہیں چاہیے،سپریم کورٹ اور فوج اچھا کام کررہے ہیں، ہمیں پاکستان کو پٹری پر چڑھانے کے لیے اقدامات کرنا ہیں ،حالات ٹھیک نہیں ہوتے تو قبل از وقت انتخابات ہونے چاہئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس سے آڈیو خطاب کرتے ہوئے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا کہ ہمیں ملکی سیاست کے لیے اہم فیصلے لینے ہیں، بڑا فیصلہ ہمارے اکھٹے ہونے کا ہے، میں ایک فوجی ہوں اور چالیس سال میں کمان کرنا سیکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ بدنام ترین ہے اور مہاجر برادری بھی بدنام ہو رہی ہے، مہاجروں کو سب کچھ چھوڑ کر پاکستانی بننا ہو گا۔ ہم اکھٹے ہونا چاہتے ہیں اور ایک نام کے ساتھ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ایم کیو ایم کی صورتحال پر دل دکھا ہے، آپس کے جھگڑے بند کریں اور عوام اور مستقبل کی سوچیں ۔انہوں نے کہا کہ حالات میں تبدیلی آرہی ہے اور اس کے مطابق پاکستان جاؤں گا،اس موقع پر حکومت سے کسی قسم کی سیکورٹی نہیں چاہیے۔ پرویز مشرف کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اپنی پارٹی کے بارے میں سوچتے ہیں پاکستان کے بارے میں نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف کا سیاسی مستقبل زیرو ہو چکا ہے ،پیپلز پارٹی پنجاب میں ختم ہوچکی ہے ۔اپنے خطاب میں مشرف کا کہنا تھا کہ (ن) لیگ کے بہت سے لوگ علیحدہ ہو رہے ہیں۔ نئی سیاسی قوت بننے جا رہی ہے۔

اگر ہم دل اور دماغ سے کام لیں تو ہم دوسروں کو بھی قائل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ مشرف کا کہنا تھا کہ چودھری پرویز الٰہی نے میرا ساتھ دیا اور پنجاب حکومت کو اچھے طریقے سے چلایا۔ مجھے امید ہے کہ (ق) لیگ اس اتحاد کا ساتھ دے گی۔انہوں نے کہا کہ ایم کیو ایم کے معاملے میں ہر مرتبہ میرا نام آ جاتا ہے، میں پاگل ہی ہوں گا کہ لسانی جماعت ایم کیو ایم کا سربراہ بن جاؤں اور فاروق ستار کی جگہ میں لے لوں ایسا نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ میرے خلاف جو مقدمات ہیں ان کا سامنا کرنا ہو گا۔ پہلے عدالتوں کے پیچھے سابق وزیر اعظم نواز شریف تھے لیکن اب حالات تبدیل ہو رہے ہیں۔ اب نواز شریف کا سیاسی مستقبل زیروہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی حالات اگر ٹھیک نہیں ہوتے تو قبل از وقت انتخابات کی حمایت ہونی چاہئیں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…