پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

قندیل بلوچ قتل کیس، جسمانی ریمانڈ کے دوران مفتی عبدالقوی نے سب کچھ اگل دیا،بڑے بڑے انکشافات

datetime 1  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

ملتان (این این آئی)قندیل بلوچ قتل کیس میں مفتی عبدالقوی نے دوران ریمانڈ اعتراف کیا ہے کہ قندیل کے قتل میں جو کار استعمال ہوئی وہ میرے کزن کی تھی، قندیل جس گھر میں کرایہ دار تھی، اس کا مالک مکان میرا قریبی تعلق دار ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق قندیل بلوچ قتل کیس میں اب تک مفتی عبدالقوی کے 13 روزہ جسمانی ریمانڈ میں مفتی عبدالقوی نے تسلیم کر لیا ہے کہ قندیل بلوچ کے قتل میں جو کار استعمال ہوئی اس کا

مالک اور ڈرائیور عبدالباسط ان کا قریبی عزیز ہے۔عبدالباسط اور مفتی عبدالقوی کے دادا خالہ زاد بھائی ہیں۔ عبدالباسط مفتی عبدالقوی کا مرید بھی ہے ٗکار ڈرائیور عبدالباسط نے قندیل بلوچ کے مرکزی ملزموں قندیل کے بھائی وسیم اور کزن حق نواز کو ڈیرہ غازی خان سے ملتان اور قتل کے فورا بعد واپس ڈیرہ غازی خان منتقل کیا تھا۔مفتی عبدالقوی نے اعتراف کیا کہ ملتان کے علاقہ مظفر آباد کے جس کرائے کے مکان میں قندیل بلوچ رہائش پذیر تھی اس کا مالک مکان محمد نواز بھی ان کا قریبی تعلق دار ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق مالک مکان محمد نواز نے ہی مفتی عبدالقوی کی جانب سے قندیل کے والدین پر بھاری معاوضہ کے بدلے صلح کرنے پر دباو ڈالا ہے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے قندیل بلوچ کے والد نے عدالت میں بیان دیا تھا کہ  بیٹی کا اصل قاتل مفتی عبد القوی ہی ہے، میں کسی صورت معاف نہیں کروں گا۔ قندیل کے والد نے دعوی کیا کہ ملزم صلح کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔دریں اثنا قندیل بلوچ قتل کیس کے مرکزی ملزم مفتی عبد القوی کے دل کا ایک والو بند نکلا،انجیو گرافی رپورٹ سامنے آگئی ۔نجی ٹی وی کے مطابق ڈاکٹرز نے بتایا کہ مفتی عبد القوی کے دل کا ایک والو بند ہے۔ ان کا سٹنٹ کسی بھی وقت تبدیل کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایم ایس ہسپتال کا کہنا تھا کہ مفتی عبد القوی کے دل کی بائیں شریان دباﺅ کا شکار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…