پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

اسمبلیاں کس تاریخ کو تحلیل،اگلے عام انتخابات کب ہونگے،الیکشن کمیشن کاحتمی اعلان

datetime 31  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ موجودہ اسمبلیوں کی مدت 5 جون 2018 کو مکمل ہوگی اور عام انتخابات جولائی 2018 تک ہونے کا امکان ہے۔ منگل کو الیکشن کمیشن کے زیر اہتمام عام انتخابات 2018 کی تیاریوں سے متعلق میڈیا ورکشاپ کا انعقاد ہوا جس میں حکام الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن ایکٹ 2017 سے مالی اور انتظامی خودمختاری ملی ہے، آئندہ عام انتخابات کے لیے انتخابی مواد کی خریداری

کا عمل جاری ہے اور آئندہ عام انتخابات میں اضافی بیلٹ پیپرز نہیں چھاپے جائیں گے۔الیکشن کمیشن حکام کا کہنا تھا کہ شفافیت کے لیے واٹر مارک بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں گے، آئندہ عام انتخابات میں ریٹرننگ آفیسر عدلیہ سے بھی لئے جاسکتے ہیں، سنجیدہ امیدواروں کو سامنے لانے کے لیے کاغذات نامزدگی کی فیس بڑھا دی ہے، قومی اسمبلی کے امیدوار 30 ہزار جب کہ صوبائی اسمبلی اور سینیٹ کے امیدوار 20،20 ہزار فیس جمع کرائیں گے، قومی اسمبلی امیدوار 40 لاکھ، صوبائی اسمبلی 20 لاکھ اور سینیٹ امیدوار 15 لاکھ تک انتخابی اخراجات کر سکیں گے۔الیکشن کمیشن کے مطابق ایک پولنگ اسٹیشن میں زیادہ سے زیادہ بارہ سو ووٹرز ہوں گے، ریٹرننگ اور اسسٹنٹ ریٹرننگ افسر کی تعیناتی 2 ماہ قبل عمل میں آئے گی، ایک پولنگ اسٹیشن میں زیادہ سے زیادہ 4 پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے، انتخابات کے لیے انتخابی مواد کی خریداری کا عمل شروع ہو گیا ہے جب کہ صوبوں نے انتخابات کے لیے اپنی ضروریات سے آگاہ کر دیا ہے۔ عام انتخابات میں 10 کروڑ سے زائد ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ امیدوار، پولنگ ایجنٹس، مشاہدہ کاروں، سیکورٹی اہلکاروں کے لیے ضابطہ اخلاق بنایا جائے گا۔حکام الیکشن کمیشن کے مطابق موجودہ اسمبلیوں کی مدت 5 جون 2018 کو مکمل ہوگی

اور عام انتخابات جولائی 2018 تک ہونے کا امکان ہے جبکہ آئین کے تحت اسمبلیوں کی مدت ختم ہونے کے بعد 2 ماہ کے اندر انتخابات کرانا ہیں، 5 مئی 2018 کو انتخابی فہرستیں منجمد کردی جائیں گی تاہم 5 مئی کے بعد انتخابی فہرستوں میں کسی ووٹر کو شامل نہیں کیا جائے گا۔میڈیا ورک شاپ میں الیکشن کمیشن کے مطابق نومبر سے عام انتخابات کے لیے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا منصوبہ بنایا ہے جبکہ دسمبر سے گھر گھر

ووٹرز کی تصدیقی مہم شروع کریں گے، جنوری سے انتخابی فہرستوں کے ڈسپلے سنٹرز بنائے جائیں گے۔ انتخابی فہرستوں پر اعتراضات فروری میں دائر ہوں گے،مارچ اور اپریل میں عام انتخابات کے لیے ووٹرز فہرستیں چھاپی جائیں گی۔میڈیا ورکشاپ میں اظہار خیال کرتے ہوئے سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہاکہ میڈیا سے کوئی چیز خفیہ نہیں رکھی، الیکشن ایکٹ سے الیکشن کمیشن کی خودمختاری میں خاطر خواہ اضافہ ہوا

جبکہ الیکشن کمیشن کو رولز بنانے کا اختیار پہلی دفعہ دیاگیا تاہم اب رولز کے لئے صدر یا وزیر اعظم کی منظوری درکار نہیں۔ انہوںنے کہاکہ انتخابی عملہ پر اب الیکشن کمیشن کا مکمل کنٹرول ہوگا ٗ بھارت کی طرح پاکستان میں بھی انتخابی عملہ الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوگا، مس کنڈکٹ پر انتخابی عملہ کے خلاف الیکشن کمیشن انضباطی کارروائی کرسکے گا۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ الیکشن کمیشن نئے ایکٹ سے زیادہ قابل احتساب بنا دیا گیا جو خوش آئند ہے، الیکشن کمیشن کو زیادہ خودمختاری دینے پر پارلیمنٹ کے شکرگذار ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…