پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

مفتی عبدالقوی نے قندیل بلوچ کوکس کے ذریعے قتل کروایا، والدین کو چپ رہنے کیلئے 17اور 18اکتوبر کو کیا پیشکش کی گئی ،دھماکہ خیز انکشاف

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

ملتان(آن لائن)سوشل میڈیا سٹار اور معروف ماڈل قندیل بلوچ کے والدین نے کہا ہے کہ قندیل بلوچ قتل کیس میں نامزد ملزم مفتی عبدالقوی کی جانب سے پیسوں کی پیشکش کی گئی ہے ۔ مفتی عبدالقوی کی عدالت پیشی کے موقع پر ملتان کچہری میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مفتی عبدالقوی نے اپنے بندوں کے زریعے 17اور 18 اکتوبر کو پیسوں کی پیشکش کی.قندیل بلوچ کے والد نے کہا کہ میں عدالت سے استدعا کروں گا

کہ عدالت ملزم مفتی عبد القوی کا مزید ریمانڈ دے تاکہ قتل کیس کی مکمل تفتیش ہو سکے اور حقائق سامنے آئیں. انہوں نے کہا کہ مفتی عبدالقوی کے کہنے پر میری بیٹی کو قتل کیا گیا.مفتی عبدالقوی کو سزا دے کر مجھے انصاف دیں.انہوں نے مزید کہا کہ قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث تمام ملزمان کیفر کردار تک پہنچنے چاہیے. بیٹے وسیم کو معاف نہیں کروں گا.قندیل بلوچ کے والد کا کہنا ہے کہ میرا دوسرا بیٹا اسلم شاہین بے گناہ ہے.انہوں نے کہا کہ قندیل بلوچ قتل کیس میں ملوث ملزم عبدالباسط مفتی قوی کا رشتہ دار ہے.اس موقع پر قندیل بلوچ کی والدہ انور بی بی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مفتی عبدالقوی میری بیٹی کا قاتل ہے کبھی معاف نہیں کروں گی.انہوں نے کہا کہ قندیل بلوچ کا مفتی عبدالقوی سے جگھڑا ہوا تھا جس پر اس نے قندیل بلوچ کو قتل کی دھمکی دی تھی.انہوں نے کہا کہ جھگڑے کے بعد قندیل ملتان آئی تو وہ بہت ڈری ہوئی تھی.اس موقع پر قندیل بلوچ کے والدین نے کہا کہ ہمیں انصاف چاہیے.۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…