منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

ختم نبوتﷺ حلف نامے میں تبدیلی کس نے کی،ذمہ دار کا نام سامنے آگیا

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )ختم نبوت ﷺ کے قانون میں  تبدیلی کے حوالے تحقیقات مکمل کر لی گئی ۔میڈیا رپورٹس  کے مطابق کمیٹی نے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کو ذمہ دار قرار دے دیا ۔ ایک قومی اخبار کے مطابق حلف نامے میں پہلے سے شامل الفاظ میں تبدیلی وزیر قانون زاہد حامد نے کی ۔انہوں نے اس حوالے سے تبدیلی کے لئے ایک خاتون وزیر ممکت سے کہا کہ وہ ڈرافٹ تیار کرائیں ،اور انہوں نے اپنی مرضی سے

ڈرافٹ تیار کرایا جسے وزیر قانون نے پڑھا ،پرنٹنگ کے لئے قومی اسمبلی میں دے دیا ۔کمیٹی نے اس بات کا بھی جائزہ لیا ہے کہ اس میں تبدیلی کی ضرورت تھی بھی یا نہیں ۔اس حلف میں عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے خوامخواہ اس میں تبدیلی کی گئی ہے جس کی ہرگز صرورت نہ تھی اور لیڈر شپ کو بھی اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں دی گئی ۔دریں اثنا نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز کے پروگرام میں معروف صحافی صابر شاکر نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ختم نبوتﷺ قانون میں ترمیم کے ذمہ داران کا تعین کرنے کیلئے بنائی گئی کمیٹی نے رپورٹ تیار کر کے وزیراعظم کو دے دی ہے جس کو پبلک نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ختم نبوت ﷺ معاملے پر ذمہ داران کے تعین کیلئے راجہ ظفر الحق کی سربراہی میں قائم تین رکنی کمیٹی کے ارکان کو رپورٹ کا کوئی بھی حصہ باہر لانے سے بھی منع کر دیا گیا ہے ۔ صابر شاکر نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے سے وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا ہے کہ ختم نبوتﷺ قانون میں ترمیم کے حوالے سے جو بھی ہوا وہ میں نے نہیں کیا بلکہ مجھ سے کروایا گیا ، مجھے جو حکم ملا تھا میں نے اس کی تعمیل کر دی، اس موقع پر پروگرام میں شریک میزبان و سینئر صحافی سمیع ابراہیم کا کہنا تھا

کہ رپورٹ پبلک نہ کر کے انوشہ رحمان اور زاہد حامد کو بچانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔دریں اثنا اس سے پہلے پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر ٗسابق وزیر اعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ ختم نبوت ہمارے آئین کا اٹوٹ حصہ بن چکا ہے ٗ معاملے کو سیاسی الائشوں سے پاک رہنے دیا جائے ٗانتخابی بل میں غلطی ٗ کوتاہی یا لغزش کا فوری ازالہ کر دیا گیا ہے معاملے پر تمام پارلیمانی جماعتوں کا شکر گزار ہوں ٗ

ختم نبوت کے معاملے پرمنفی اظہارخیال (ن )لیگ کے نظریے ٗپالیسی سے تعلق نہیں رکھتا ۔ ایک بیان میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ میں اس امر کا دو ٹوک اور غیر  مبہم اعلان ضروری خیال کرتا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین اور مسلمہ اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام اقلیتوں کو جان و مال سمیت ہر نوع کے بنیادی حقوق کا مکمل تحفظ حاصل ہے۔ اس حوالے سے کسی طرح کا منفی اظہار

خیال مسلم لیگ (ن )کے نظرئیے اور پالیسی سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔ نواز شریف نے کہا کہ مجھے پاکستان کے عوام نے تین بار ملک کا وزیراعظم چنا ٗتینوں بار میں نے ذاتی طور پر اور مسلم لیگ (ن )کی حکومت نے زبان ، رنگ ، نسل ، مذہب ، عقیدے یا کسی بھی دوسری تمیز و تفریق کے بغیر پاکستان کے عوام کی خدمت کی اور اقلیتوں کے حقوق کو یقینی بنایا ۔ پاکستان مسلم لیگ ( ن ) کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح

کی جماعت ھونے کا اعزاز حاصل ہے۔ بابائے قوم نے پاکستان کے تمام طبقوں خصوصا اقلیتوں کو جس کامل مذہبی اور سماجی آزادی کی ضمانت دی تھی، اسے یقینی بنانا اب ایک آئینی تقاضا ہے جس سے انحراف کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ نواز شریف نے کہا کہ میں اس امر کا واضح اظہار بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ محسن انسانیت حضرت محمد ؐ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر متزلزل ایمان جزو اسلام ہے ٗ یہ ہمارے آئین کا اٹوٹ حصہ بھی بن چکا ہے۔ یہ معاملہ اب ہمیشہ کیلئے طے ہو چکا ہے۔ بہتر ہو گا کہ اس کی حساسیت کو مد نظر رکھا جائے اور سیاسی آلا ئشوں سے بھی پاک رہنے دیا جائے۔ اس حوالے سے انتخابی بل میں ہونے والی غلطی ، کوتاہی یا لغزش کا فوری ازالہ کر دیا گیا ہے جس کے لئے میں تمام پارلیمانی جماعتوں کا شکر گزار ہوں۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…