منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

خواجہ آصف نے امریکی وزیر خارجہ کوایسی ایسی سنائیں کہ ریکس ٹیلرسن کا منہ لٹک گیا،حلق سے کچھ بھی نہ نکلا

datetime 25  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ ملاقات کے دوران امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں پیدا کردہ مشکلات اور مسائل کا ذمہ دار امریکہ ہی ہے ، 1980 کی دہائی میں جو بنیاد پرستی کو یہاں جنم دیا گیا آپ افغانستان سے جنگ جیت کر واپس چلے گئے اور تمام مسائل ہمارے گلے میں پڑ گئے ، ہم چاہتے تھے کہ ہمارا مشترکہ بیانیہ امریکہ کے سامنے جائے اس

لئے سول و عسکری قیادت نے امریکی وزیر خارجہ سے مشترکہ ملاقات کی ، اب سول و عسکری قیادت کی طرف سے ون ونڈو آپریشن ہی ہو گا ،سب ایک ساتھ مل کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے کوششیں کریں گے ، ہم چاہتے ہیں افغانستان کے ساتھ سرحد پر امن رہے اور مشرقی سرحد بھی پر امن رہے مگر مشرقی سرحد پر بھارت براہ راست اور مغربی سرحد پر افغان حکام کے ذریعے ہمارے ملک کا امن و امان خراب کرنے میں ملوث ہے۔وہ منگل کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امر یکی وزیر خارجہ سے اچھے ماحول میں بات ہوئی ۔ ہم نے اپنا بیانیہ تفصیل سے آگے بڑھایا ۔ شرائط ان کی وہی ہیں کہ ہماری زمین سے دہشتگرد آپریٹ کرتے ہیں ۔ حقانی نیٹ ورک چلایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خفیہ رپورٹس پر پاکستانی فورسز نے کارروائی کرکے امریکی جوڑے کو رہائی دلوائی ۔ اسی طرح کی کارروائیوں سے باہمی اعتماد بڑھتا ہے ۔ ہم نے کہا کہ آپ ہمیں مزید رپورٹس مہیا کریں تو ہم مزید کارروائیاں کرسکتے ہیں ۔ نتائج آپ کو دینگے کیونکہ دہشتگردی کی شکست ہی ہماری فتح ہے ۔ افغانستان میں امن کا ہمیں بھی فائدہ ہے ۔ ہم نے کہا کہ افغانستان کا 45 فیصد علاقہ دہشتگردوں کے قبضے میں ہے تو ان کی ہماری سرزمین استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ہو سکتا ہے کہ افغان رفیوجی کیمپس میں کوئی دہشتگرد آ جائے تو الگ بات ہے مگر باقاعدہ یہاں دہشتگردوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔ افغان پناہ گزینوں کو واپس لے جائیں تو امید بقیہ مسائل بھی ختم ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکی وزیرخارجہ کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں پیدا کردہ مشکلات اور مسائل کا ذمہ دار امریکہ ہی ہے ۔ 1980 کی دہائی میں جو بنیاد پرستی کو یہاں جنم دیا گیا

آپ افغانستان سے جنگ جیت کر واپس چلے گئے اور تمام مسائل ہمارے گلے میں پڑ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان سے افغانستان میں سمگلنگ یا دہشتگردی کی جارہی ہے تو افغان فورسز کیوں نہیں پکڑتی ان کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض پر پورا اتریں ۔ دندناتا ہوا اسلحے کا ٹرک وہاں اہم جگہ کیسے پہنچ جاتا ہے اسے راستے میں کیوں نہیں روکا جاتا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ ہمارا مشترکہ بیانیہ امریکہ کے سامنے جائے

اس لئے سول و عسکری قیادت نے امریکی وزیر خارجہ سے مشترکہ ملاقات کی ۔ اب سول و عسکری قیادت کی طرف سے ون ونڈو آپریشن ہی ہو گا ۔ سب ایک ساتھ مل کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے کوششیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں افغانستان کے ساتھ سرحد پر امن رہے اور مشرقی سرحد بھی پر امن رہے مگر مشرقی سرحد پر بھارت براہ راست اور مغربی سرحد پر افغان حکام کے ذریعے ہمارے ملک کا امن و امان خراب کرنے میں ملوث ہے ۔ ۔۔۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…