اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

خواجہ آصف نے امریکی وزیر خارجہ کوایسی ایسی سنائیں کہ ریکس ٹیلرسن کا منہ لٹک گیا،حلق سے کچھ بھی نہ نکلا

datetime 25  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ ملاقات کے دوران امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں پیدا کردہ مشکلات اور مسائل کا ذمہ دار امریکہ ہی ہے ، 1980 کی دہائی میں جو بنیاد پرستی کو یہاں جنم دیا گیا آپ افغانستان سے جنگ جیت کر واپس چلے گئے اور تمام مسائل ہمارے گلے میں پڑ گئے ، ہم چاہتے تھے کہ ہمارا مشترکہ بیانیہ امریکہ کے سامنے جائے اس

لئے سول و عسکری قیادت نے امریکی وزیر خارجہ سے مشترکہ ملاقات کی ، اب سول و عسکری قیادت کی طرف سے ون ونڈو آپریشن ہی ہو گا ،سب ایک ساتھ مل کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے کوششیں کریں گے ، ہم چاہتے ہیں افغانستان کے ساتھ سرحد پر امن رہے اور مشرقی سرحد بھی پر امن رہے مگر مشرقی سرحد پر بھارت براہ راست اور مغربی سرحد پر افغان حکام کے ذریعے ہمارے ملک کا امن و امان خراب کرنے میں ملوث ہے۔وہ منگل کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امر یکی وزیر خارجہ سے اچھے ماحول میں بات ہوئی ۔ ہم نے اپنا بیانیہ تفصیل سے آگے بڑھایا ۔ شرائط ان کی وہی ہیں کہ ہماری زمین سے دہشتگرد آپریٹ کرتے ہیں ۔ حقانی نیٹ ورک چلایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خفیہ رپورٹس پر پاکستانی فورسز نے کارروائی کرکے امریکی جوڑے کو رہائی دلوائی ۔ اسی طرح کی کارروائیوں سے باہمی اعتماد بڑھتا ہے ۔ ہم نے کہا کہ آپ ہمیں مزید رپورٹس مہیا کریں تو ہم مزید کارروائیاں کرسکتے ہیں ۔ نتائج آپ کو دینگے کیونکہ دہشتگردی کی شکست ہی ہماری فتح ہے ۔ افغانستان میں امن کا ہمیں بھی فائدہ ہے ۔ ہم نے کہا کہ افغانستان کا 45 فیصد علاقہ دہشتگردوں کے قبضے میں ہے تو ان کی ہماری سرزمین استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ہو سکتا ہے کہ افغان رفیوجی کیمپس میں کوئی دہشتگرد آ جائے تو الگ بات ہے مگر باقاعدہ یہاں دہشتگردوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔ افغان پناہ گزینوں کو واپس لے جائیں تو امید بقیہ مسائل بھی ختم ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکی وزیرخارجہ کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں پیدا کردہ مشکلات اور مسائل کا ذمہ دار امریکہ ہی ہے ۔ 1980 کی دہائی میں جو بنیاد پرستی کو یہاں جنم دیا گیا

آپ افغانستان سے جنگ جیت کر واپس چلے گئے اور تمام مسائل ہمارے گلے میں پڑ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان سے افغانستان میں سمگلنگ یا دہشتگردی کی جارہی ہے تو افغان فورسز کیوں نہیں پکڑتی ان کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض پر پورا اتریں ۔ دندناتا ہوا اسلحے کا ٹرک وہاں اہم جگہ کیسے پہنچ جاتا ہے اسے راستے میں کیوں نہیں روکا جاتا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ ہمارا مشترکہ بیانیہ امریکہ کے سامنے جائے

اس لئے سول و عسکری قیادت نے امریکی وزیر خارجہ سے مشترکہ ملاقات کی ۔ اب سول و عسکری قیادت کی طرف سے ون ونڈو آپریشن ہی ہو گا ۔ سب ایک ساتھ مل کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے کوششیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں افغانستان کے ساتھ سرحد پر امن رہے اور مشرقی سرحد بھی پر امن رہے مگر مشرقی سرحد پر بھارت براہ راست اور مغربی سرحد پر افغان حکام کے ذریعے ہمارے ملک کا امن و امان خراب کرنے میں ملوث ہے ۔ ۔۔۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…