پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

خواجہ آصف نے امریکی وزیر خارجہ کوایسی ایسی سنائیں کہ ریکس ٹیلرسن کا منہ لٹک گیا،حلق سے کچھ بھی نہ نکلا

datetime 25  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف نے کہاہے کہ ملاقات کے دوران امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں پیدا کردہ مشکلات اور مسائل کا ذمہ دار امریکہ ہی ہے ، 1980 کی دہائی میں جو بنیاد پرستی کو یہاں جنم دیا گیا آپ افغانستان سے جنگ جیت کر واپس چلے گئے اور تمام مسائل ہمارے گلے میں پڑ گئے ، ہم چاہتے تھے کہ ہمارا مشترکہ بیانیہ امریکہ کے سامنے جائے اس

لئے سول و عسکری قیادت نے امریکی وزیر خارجہ سے مشترکہ ملاقات کی ، اب سول و عسکری قیادت کی طرف سے ون ونڈو آپریشن ہی ہو گا ،سب ایک ساتھ مل کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے کوششیں کریں گے ، ہم چاہتے ہیں افغانستان کے ساتھ سرحد پر امن رہے اور مشرقی سرحد بھی پر امن رہے مگر مشرقی سرحد پر بھارت براہ راست اور مغربی سرحد پر افغان حکام کے ذریعے ہمارے ملک کا امن و امان خراب کرنے میں ملوث ہے۔وہ منگل کو نجی ٹی وی کو انٹرویو دے رہے تھے ۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ امر یکی وزیر خارجہ سے اچھے ماحول میں بات ہوئی ۔ ہم نے اپنا بیانیہ تفصیل سے آگے بڑھایا ۔ شرائط ان کی وہی ہیں کہ ہماری زمین سے دہشتگرد آپریٹ کرتے ہیں ۔ حقانی نیٹ ورک چلایا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے خفیہ رپورٹس پر پاکستانی فورسز نے کارروائی کرکے امریکی جوڑے کو رہائی دلوائی ۔ اسی طرح کی کارروائیوں سے باہمی اعتماد بڑھتا ہے ۔ ہم نے کہا کہ آپ ہمیں مزید رپورٹس مہیا کریں تو ہم مزید کارروائیاں کرسکتے ہیں ۔ نتائج آپ کو دینگے کیونکہ دہشتگردی کی شکست ہی ہماری فتح ہے ۔ افغانستان میں امن کا ہمیں بھی فائدہ ہے ۔ ہم نے کہا کہ افغانستان کا 45 فیصد علاقہ دہشتگردوں کے قبضے میں ہے تو ان کی ہماری سرزمین استعمال کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔

خواجہ آصف نے کہا کہ یہ ہو سکتا ہے کہ افغان رفیوجی کیمپس میں کوئی دہشتگرد آ جائے تو الگ بات ہے مگر باقاعدہ یہاں دہشتگردوں کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے ۔ افغان پناہ گزینوں کو واپس لے جائیں تو امید بقیہ مسائل بھی ختم ہو جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے امریکی وزیرخارجہ کو واضح طور پر کہا کہ پاکستان میں پیدا کردہ مشکلات اور مسائل کا ذمہ دار امریکہ ہی ہے ۔ 1980 کی دہائی میں جو بنیاد پرستی کو یہاں جنم دیا گیا

آپ افغانستان سے جنگ جیت کر واپس چلے گئے اور تمام مسائل ہمارے گلے میں پڑ گئے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان سے افغانستان میں سمگلنگ یا دہشتگردی کی جارہی ہے تو افغان فورسز کیوں نہیں پکڑتی ان کو چاہیے کہ وہ اپنے فرائض پر پورا اتریں ۔ دندناتا ہوا اسلحے کا ٹرک وہاں اہم جگہ کیسے پہنچ جاتا ہے اسے راستے میں کیوں نہیں روکا جاتا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ ہمارا مشترکہ بیانیہ امریکہ کے سامنے جائے

اس لئے سول و عسکری قیادت نے امریکی وزیر خارجہ سے مشترکہ ملاقات کی ۔ اب سول و عسکری قیادت کی طرف سے ون ونڈو آپریشن ہی ہو گا ۔ سب ایک ساتھ مل کر ملک و قوم کی بہتری کے لئے کوششیں کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں افغانستان کے ساتھ سرحد پر امن رہے اور مشرقی سرحد بھی پر امن رہے مگر مشرقی سرحد پر بھارت براہ راست اور مغربی سرحد پر افغان حکام کے ذریعے ہمارے ملک کا امن و امان خراب کرنے میں ملوث ہے ۔ ۔۔۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…