پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

کالا باغ ڈیم کیوں نہ بنایا؟نوازشریف نئی مشکل میں پھنس گئے

datetime 20  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ نے کالا باغ ڈیم نہ بنانے پر سابق وزرائے اعظم محمد نواز شریف ، راجہ پرویز اشرف سمیت چاروں صوبائی وزرائے اعلیٰ کے خلاف دائر توہین عدالت کی درخواست پر تمام فریقین کو نوٹس جاری کر تے ہوئے 11دستمبر تک جواب طلب کر لیا ۔ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد کریم کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو درخواست گزار اے کے ڈوگر نے موقف اختیار کیا کہ ملک میں پانی و توانائی کے بحران کے حل کے لیے کالا باغ ڈیم ناگزیر ہے جبکہ حکومتیں ماضی میں کالا

باغ ڈیم کو سیاسی مصلحت کے تحت نظر انداز کرتی آئی ہیں۔عدالت نے 2012ء میں حکم دیا تھا کہ مشترکہ مفادات کونسل کے فیصلے کی روشنی میں کالا باغ ڈیم بنایا جائے تاہم عدالتی حکم کو پانچ سال گزرنے کے باوجود اس پر عمل نہیں کیا گیا جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا معزز عدالت سے استدعا ہے کہ عدالتی حکم کی عدم تعمیل پر تمام فریقین کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے اور ڈیم بنانے کے حکم پر فوری عمل درآمد کا حکم دیا جائے ۔ جس پر عدالت نے تمام فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 11 دسمبر تک جواب طلب کر لیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…