اتوار‬‮ ، 22 فروری‬‮ 2026 

پاکستان کا وہ اہم سیاستدان جس کے ملازمین بھی کروڑوں کے مالک ہیں،حیرت انگیزانکشاف

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سپریم کورٹ میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین نا اہلی کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیے کہ پی ٹی آئی کے دونوں رہنماؤں کے خلاف نااہلی کیس کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں اور مشترک سوالات کی وجہ سے دونوں مقدمات کا فیصلہ ایک ساتھ کریں گے۔چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ

نے مسلم لیگ (ن) کے رہنما حنیف عباسی کی جانب سے عمران خان اور جہانگیر ترین کی نا اہلی کیلئے دائر پٹیشن کی سماعت کی جس کے آغاز میں چیف جسٹس نے کہا کہ عمران خان اور جہانگیر ترین نااہلی کیس کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مشترک سوالات کی وجہ سے دونوں مقدمات کا فیصلہ ایک ساتھ کریں گے۔حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے موقف تبدیلی کی درخواست میں عدالت سے چاند مانگ رہے ہیں ٗموقف تبدیلی درخواست کی ماضی میں کوئی مثال نہیں۔دوسری جانب جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے اپنے دلائل میں کہا کہ سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کے سیکشنز 15 اے اور بی میں فنانس بل کے ذریعے ترمیم غیر آئینی ہے جبکہ عدالت آئین سے بر خلاف ایسی ترمیم کو از خود نوٹس اختیار کے ذریعے کالعدم قرار دے سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ ان سائیڈ ٹریڈنگ کا جرم نیت سے متعلق ہے جبکہ جہانگیر ترین نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا اور نہ ہی میرے موکل کو اس حوالے سے کبھی ایس ای سی پی نے نوٹس بھیجا۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ کسی کو اسٹاک کی قیمتوں کا علم ہو اور وہ اس سے فائدہ اٹھا لے تو معاملہ نیت کا نہیں جبکہ یہ تو طے شدہ بات ہے، جہانگیر ترین اس بات سے انکار نہیں کر رہے کہ حصص کا انکو علم تھا اور جہانگیر ترین اس وقت حصص خریدنے والی کمپنی میں کا عہدے پر تھے۔انہوں نے استفسار کیا کہ یہ حصص کل کتنی مالیت کے تھے؟ آپ سوالوں کے جواب دینے کے بجائے ادھر ادھر سے نکل رہے ہیں۔

وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ ادھر ادھر سے نہیں نکل رہا ٗہر شہری کی طرح جہانگیر ترین کو بھی آرٹیکل فور کا تحفظ حاصل ہے اور جہانگیر ترین اس وقت کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں تھے۔چیف جسٹس نے کہا بتائیں کہ اللہ یار اور حاجی خان نے جو حصص خریدے اس سے کتنا فائدہ ہوا اور رقم کس کی تھی؟ جس پر وکیل نے بتایا کہ جہانگیر ترین کے ملازموں نے چار کروڑ 19 لاکھ کے شیئر خریدے اور 11 کروڑ 27 لاکھ روپے میں فروخت کیے۔

جہانگیر ترین کے وکیل نے کہاکہ یہ بات درست ہے کہ ملازمین کو رقم جہانگیر ترین نے فراہم کی تھی اور سیکیورٹیز ایکسچینج کمیشن کی جن دو شقوں کے تحت جہانگیر ترین سے رقم واپس لی گئی، وہ شقیں آئین سے متصادم ہیں جبکہ جہانگیر ترین کو ایسے قانون کے تحت قصور وار قرار نہیں دیا جا سکتا جو غیر قانونی ہے۔اس موقع پر جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کیا جہانگیر ترین کا ذاتی مفاد کے لیے مخصوص معلومات کا استعمال درست ہے؟ بظاہر وکیل جہانگیر ترین نے تکنیکی نکات علاوہ ان سائیڈ ٹریڈنگ کے میرٹ پر کوئی بات نہیں کی۔

جس پر وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ جہانگیر ترین کو آرٹیکل چار کے تحت وہی حقوق حاصل ہیں جو کسی دوسرے شہری کو حاصل ہیں جس کے بعد سپریم کورٹ نے مقدمہ کی سماعت 18 اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



چوہے کھانا بند کریں


ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…