منگل‬‮ ، 10 مارچ‬‮ 2026 

عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی وہ بھی ایک ساتھ چیف جسٹس نے بڑا اعلان کردیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کیس کا فیصلہ ایک ساتھ کریں گے۔ مقدمات کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں‘ آپ قانونی موشگافیوں کا سہارا لیکر ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں‘ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا جہانگیر ترین کا اقدام درست تھا‘ جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ حصص کی خریداری کے وقت جہانگیر ترین

وزیر نہیں تھے‘ اﷲ ی ار اور حاجی خان جہانگیر ترین کے ڈرائیور یا باورچی نہیں ہیں‘ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان عدالت سے چاند مانگ رہے ہیں۔ بدھ کو جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کیس میں نئی درخواست کا علم اخباروں سے ہوا۔ پیر‘ منگل‘ بدھ میں سے کسی دن جواب دوں گا پھر مجھے بیرون ملک جانا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ 26اکتوبر کو میں بھی سارک کانفرنس میں جارہا ہوں وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان عدالت سے چاند مانگ رہے ہیں۔ جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ جہانگیر ترین نے انسائیڈر تریڈنگ سے نقصان نہیں کیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جس کمپنی کے شیئرز خریدے جہانگیر ترین کا اس سے کیا تعلق تھا؟ وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ جہانگیر ترین بطور سی ای او مستعفی ہو کر گورننگ بورڈ کے ممبر تھے آپ سے اﷲ یار اور حاجی خان کا پوچھا تھا۔ وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ اﷲ یار 1975 سے جہانگیر ترین کے ملازم ہیں۔ اﷲ یار لودھراں فارم کے انچارج ہیں۔ حاجی خان 1980 سے جہانگیر ترین کے ملازم ہیں

حاجی خان لاہور اور اسلام آباد میں گھروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں یہ کہنا درست نہیں کہ دونوں ڈرائیور یا باورچی ہیں۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ شیئرز کی خریداری کے لئے کتنی رقم استعمال ہوئی؟ عمران خان اور جہانگیر ترین کیس فیصلہ ایک ساتھ کریں گے۔ گہرائی سے دونوں مقدمات کو دیکھ رہے ہیں اﷲ یار نے کتنی رقم کے شیئرز خریدے؟ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ اﷲ یار نے تیرہ ملین کے شیئر خرید کر46ملین میں فروخت کئے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا جہانگیر ترین کا اقدام درست تھا؟ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ درخواست گزار مبینہ اعتراف پر کارروائی چاہتے ہیں۔ عدالت کے سامنے اپنی گزارشات اور مفروضات پیش کررہا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ قانونی موشگافیوں کا سہارا لیکر ہاتھ پاؤں مارہے ہیں۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ جہانگیر ترین کے ملازموں نے چار کروڑ انیس لاکھ کے شیئرز خریدے اور گیارہ کروڑ ستائیس لاکھ روپے میں بیچے۔ ملازمین کو رقم جہانگیر ترین نے فراہم کی۔ حصص کی خریداری کے وقت جہانگیر ترین وزیر نہیں تھے۔ کیس کی مزید سماعت کل جمعرات کو ہوگی۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…