پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

عمران خان اور جہانگیر ترین کی نااہلی وہ بھی ایک ساتھ چیف جسٹس نے بڑا اعلان کردیا

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ عمران خان اور جہانگیر ترین کیس کا فیصلہ ایک ساتھ کریں گے۔ مقدمات کا گہرائی سے جائزہ لے رہے ہیں‘ آپ قانونی موشگافیوں کا سہارا لیکر ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں‘ جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا جہانگیر ترین کا اقدام درست تھا‘ جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ حصص کی خریداری کے وقت جہانگیر ترین

وزیر نہیں تھے‘ اﷲ ی ار اور حاجی خان جہانگیر ترین کے ڈرائیور یا باورچی نہیں ہیں‘ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان عدالت سے چاند مانگ رہے ہیں۔ بدھ کو جہانگیر ترین نااہلی کیس کی سماعت سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی۔ حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان کیس میں نئی درخواست کا علم اخباروں سے ہوا۔ پیر‘ منگل‘ بدھ میں سے کسی دن جواب دوں گا پھر مجھے بیرون ملک جانا ہے۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ 26اکتوبر کو میں بھی سارک کانفرنس میں جارہا ہوں وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان عدالت سے چاند مانگ رہے ہیں۔ جہانگیر ترین کے وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ جہانگیر ترین نے انسائیڈر تریڈنگ سے نقصان نہیں کیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ جس کمپنی کے شیئرز خریدے جہانگیر ترین کا اس سے کیا تعلق تھا؟ وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ جہانگیر ترین بطور سی ای او مستعفی ہو کر گورننگ بورڈ کے ممبر تھے آپ سے اﷲ یار اور حاجی خان کا پوچھا تھا۔ وکیل سکندر بشیر نے بتایا کہ اﷲ یار 1975 سے جہانگیر ترین کے ملازم ہیں۔ اﷲ یار لودھراں فارم کے انچارج ہیں۔ حاجی خان 1980 سے جہانگیر ترین کے ملازم ہیں

حاجی خان لاہور اور اسلام آباد میں گھروں کی دیکھ بھال کرتے ہیں یہ کہنا درست نہیں کہ دونوں ڈرائیور یا باورچی ہیں۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ شیئرز کی خریداری کے لئے کتنی رقم استعمال ہوئی؟ عمران خان اور جہانگیر ترین کیس فیصلہ ایک ساتھ کریں گے۔ گہرائی سے دونوں مقدمات کو دیکھ رہے ہیں اﷲ یار نے کتنی رقم کے شیئرز خریدے؟ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ اﷲ یار نے تیرہ ملین کے شیئر خرید کر46ملین میں فروخت کئے۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا جہانگیر ترین کا اقدام درست تھا؟ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ درخواست گزار مبینہ اعتراف پر کارروائی چاہتے ہیں۔ عدالت کے سامنے اپنی گزارشات اور مفروضات پیش کررہا ہوں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ قانونی موشگافیوں کا سہارا لیکر ہاتھ پاؤں مارہے ہیں۔ وکیل سکندر بشیر نے کہا کہ جہانگیر ترین کے ملازموں نے چار کروڑ انیس لاکھ کے شیئرز خریدے اور گیارہ کروڑ ستائیس لاکھ روپے میں بیچے۔ ملازمین کو رقم جہانگیر ترین نے فراہم کی۔ حصص کی خریداری کے وقت جہانگیر ترین وزیر نہیں تھے۔ کیس کی مزید سماعت کل جمعرات کو ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…