پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

نئے چیئرمین نیب کا پہلا بڑا ایکشن، دھماکہ خیز اعلان،افسران پر لرزہ طاری

datetime 17  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی)قومی احتساب بیوو (نیب) کے چیئرمین جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ قومی احتساب بیورو میں گزشتہ 17سالوں سے مختلف شکایات کی بنیاد پر انکوائریوں اور تحقیقات پر اب تک کیوں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے متعلقہ افسران اہلکاروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ نیب نے اندرونی احتساب کا عمل تو شروع کیا مگر

نا اہل اور بدعنوان افسران اہلکاروں کے خلاف اس موثر انداز سے کارروائی نہیں ہوئی جس کی بدولت نیب کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے وقار اور ساکھ میں اضافہ کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے، بدعنوان آفیسرز اہلکاروں کی نیب میں کوئی جگہ نہیں، بدعنوانی ایک ناسور ہے، اس ناسور کے خاتمے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے گی کیونکہ ملک سے بدعنوانی کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے اپنے عہدے کا چارج سنبھالنے کے بعد چیئرمین سیکرٹریٹ کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ مجھ سمیت کوئی افسریا اہلکار قانون سے بالاتر نہیں جہاں قانون ہمیں اختیار دیتا ہے وہاں قانون ہمیں اختیارات کے غلط استعمال سے روکتا اور خود احتسابی کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی اہلکار کی نیب میں عزت اس کی کارکردگی، ایمانداری، دیانتداری، محنت، لگن اور قانون کے مطابق کام کرنے سے ہو گی، نا اہل بدعنوان اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والے افسران و اہلکاروں کی نیب میں کوئی جگہ نہیں، اس لئے میں نا اہل، بدعنواناور قانون کے برخلاف کام کرنے والے افسران و اہلکاروں کو آخری موقع دیتا ہوں کہ وہ اپنی اصلاح کریں اور اپنی خامیوں پر قابو پائیں

کیونکہ میں نہ تو کسی سفارش اور دباؤ کو برداشت کروں گا بلکہ نیب میں محنت، دیانتداری، ایمانداری، میرٹ، شفافیت اور قانون پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے گا اور نیب کی ساکھ کو مزید موثر بنانے کیلئے ہر ممکن اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ریاست کے مفاد کیلئے کام کرنا ہے، بدعنوانی ایک لعنت ہے جس کو جڑسے اکھاڑنا ہے، نیب کے افسران و اہلکاروں کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوئے

معاشرے کو بدعنوانی سے پاک کرنا ہو گا، میں بدعنوانی کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کروں گا بلکہ بدعنوان عناصر کے خلاف کارروائی کرنے میں ایک لمحہ کی بھی دیر نہیں کروں گا تا کہ ان کو قانون کے مطابق سزا دلوائی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ نیب کا بجٹ قانون کے مطابق خرچ کیا جائے گا، میں غیر ضروری اخراجات پر سخت کارروائی کروں گا، نیب کا انٹرنل اور ایکسٹرنل آڈٹ کروایا جائے گا تا کہ نیب میں وسائل اور فنڈز کے درست استعمال کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم اپنے کام میں بہتری لائیں گے تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نیب کا ادارہ ملک کے بہترین اداروں میں شامل ہوگا، اجلاس میں ڈپٹی چیئرمین نیب امتیازتاجور نے بھی شرکت کی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…