پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

نئی حلقہ بندیوں کے بغیر الیکشن پر آئینی سوالات اٹھیں گے ٗسیکرٹری الیکشن کمیشن نے حکومت کو نئی حلقہ بندیوں کیلئے خط لکھ دیا

datetime 16  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)سیکرٹری الیکشن کمیشن بابر یعقوب نے کہا ہے کہ نئی حلقہ بندیوں کے بغیر الیکشن ہوئے تو آئینی سوالات اٹھیں گے لہٰذا حکومت کو نئی حلقہ بندیوں کیلئے خط لکھ دیا ہے۔ انتخابی اصلاحات قانون پرسیمینار سے خطاب کرتے ہوئے بابر یعقوب نے کہا کہ نئے الیکشن قانون کے کچھ حصوں پر الیکشن کمیشن نے تحفظات کا اظہار کردیا، اس قانون سے غریب آدمی الیکشن نہیں لڑ سکے گا۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا

کہ ایک کروڑ سے زائد خواتین کی رجسٹریشن کیاقدامات نہیں کیے گئے ٗایک فرد 2 ووٹ ڈالے گا تو وہ شمار کیے جائیں گے جو غلط ہے، پارلیمنٹ اس معاملے کو دیکھے اوراس میں بہتری لائے۔سیکریٹری الیکشن کمیشن نے کہاکہ ووٹرلسٹ یوایس بی میں دینے پربھی الیکشن کمیشن کو اعتراض ہے ٗووٹرلسٹ میں خواتین کی تصاویر کے غلط استعمال کا خدشہ ہے۔بابر یعقوب نے کہا کہ پارلیمنٹ نے انتخابی اصلاحات کا قانون بنانے میں تاخیر کی، مردم شماری کے بعد نئی انتخابی فہرستیں بنائی جائیں گی۔انہوں نے کہا کہ نئی حلقہ بندیوں کے بغیر الیکشن ہوئے تو آئینی سوالات اٹھیں گے اور نئی حلقہ بندیوں کیلئے کم از کم 5 ماہ درکار ہیں تاہم حکومت کو حلقہ بندیوں کیلئے خط لکھ دیا ہے جبکہ عام انتخابات سے 4 ماہ قبل ہمیں بتانا ہوگا کہ ہم ہرلحاظ سے تیارہیں۔سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دینے کے تمام تجربات ناکام رہے ٗتجربات لندن اور نیوزی لینڈ میں موجود پاکستانیوں کے ساتھ کیے گئے۔بابر یعقوب نے کہا کہ الیکٹرانک مشینوں کا تجربہ پاکستان میں کامیاب نہیں ہوگا ٗدنیا کے بہت کم ممالک الیکٹرانک مشینوں کا استعمال کرتے ہیں، پاکستان میں الیکٹرانک مشینیں بنانے کی پالیسی زیرغور ہے، الیکشن کمیشن کا خرچہ 5 ارب روپے ہے

تو مشینوں کے استعمال سے 40 ارب ہوجائے گا۔انہوںنے کہاکہ لاہور کے ضمنی انتخاب میں الیکٹرانک مشینوں کا تجربہ کیا گیا ٗ 10 سے 12 فیصد ووٹرز کے انگوٹھے کے نشان ہی نہیں پڑھے جاسکے جبکہ سوا کروڑ سے زائد ووٹرزملک میں ایسے ہیں جن کے انگوٹھوں کے نشان نادرا کے پاس نہیں۔بابر یعقوب نے کہا کہ نئے قانون میں الیکشن کمیشن کی توہین عدالت کی کارروائی کے اختیارات بڑھا دیئے گئے جبکہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی ہرسال پارلیمنٹ میں زیربحث آئے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…