جمعرات‬‮ ، 05 فروری‬‮ 2026 

احتساب عدالت میں وزراء کو کیوں روکا؟آرڈر کس کا تھا ،آئندہ بھی ایسا ہوگا کیونکہ ۔۔۔! پاک فوج نے دوٹوک اعلان کردیا

datetime 5  اکتوبر‬‮  2017 |

راولپنڈی(این این آئی)پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ ترجمان پاک فوج نے کہا کہ احتساب عدالت میں ناخوشگوار واقعہ پیش آیا اس لیے تینوں فریقین نے مشاورت کی، صبح 7بجے تینوں اداروں کے نمائندوں نے احتساب عدالت کا دورہ کیا اور اس وقت رینجرز وہاں موجود تھی۔انہوں نے کہا کہ احتساب عدالت کے باہر رینجرز کی تعیناتی میں مقامی طور پر غلط فہمی پیدا ہوئی ہے،

اداروں میں تصادم کی کوئی صورتحال نہیں ٗملک کے تمام اداروں کا مل کر کام کرنا ضروری ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ قوانین کے مطابق اسپیشل کارڈ کے بغیر آرمی چیف کو بھی سپاہی جانے نہیں دے گا۔انہوں نے کہا کہ 2014 سے رینجرز اس درخواست پر کام کررہی ہے، رینجرز کی تین ونگ کو آئین کے مطابق درخواست کی گئی، ضروری نہیں کہ ہر حکم تحریری ہو۔انہوں نے کہاکہ رینجرز وزارت داخلہ کے ماتحت ہے ۔انہوں نے کور کمانڈر کانفرنس کا اعلامیہ جاری نہ کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا کہ خاموشی کی بھی اپنی زبان ہوتی ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آرنے اس موقع پر آرمی چیف کا بیان بھی سنایا جس میں پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ چارغیرملکی ایجنسیاں بلوچستان میں بڑی کارروائیوں کے لیے کام کر رہی ہیں میجر جنرل آصف غفور نے بتایا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کی رحم کی اپیل آرمی چیف کے پاس آئی ہے اور اس پر کام جاری ہے اور جلد آگاہ کیا جائیگا ۔ دریں اثنا پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے کہاہے کہ کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والے جے آئی ٹی میں آئی ایس آئی اور ایم آئی کا کردار آئینی تھا۔انہوں نے کہا کہ آرمی کو جے آئی ٹی میں کام کرنے کا حکم ملا تھا، سپریم کورٹ کے حکم پرآرمی جے آئی ٹی کے عمل میں شریک ہوئی، آرمی نے اپنی طرف سے کوئی چیز پیش نہیں کی، ہم اس معاملے میں فریق نہیں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی کے بعد ایک معاملہ چل رہا ہے جو ہمیں پتہ ہے ٗ فوج آئین میں رہتے ہوئے اپنا کام کریگی۔انہوں نے کہاکہ آرمی آئین اور قانون کے تحت حکم پر چلنے کی پابند ہے۔ملک سے باہربیٹھے پاکستان کو توڑنے اور گالیاں دینے والوں کو نہیں چھوڑیں گے اور ان کی جلد پکڑ ہوگی۔انہوں نے کہا کہ یہ کہنا کہ موجودہ معاملے کے پیچھے فوج ہے یا مارشل لالگنا چاہتا ہے اس پر بات کرنا بھی فضول ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ناموس رسالتؐ پر پاک فوج کوئی سمجھوتہ نہیں کریگی ۔ایک سوال پر انہوں نے کہاکہ کشمیر،فلسطین، میانمارمیں جو کچھ مسلمانوں کے ساتھ ہورہا ہے، ریاست کے طور پراخلاقی مدد جاری رہے گی۔ ایک سوال کے جواب میں ا نہوں نے کہاکہ عوام کو افواج اورسیکیورٹی فورسز پرفخر ہوناچاہئے جبکہ یہ کہناغلط ہے کہ پاک فوج کسی کے کنٹرول میں نہیں۔انہوں نے کہا کہ عدم استحکام سے ملک کو فائدہ نہیں ہوسکتا جبکہ آپس میں مل کرعدم استحکام کو دور کرنا چاہیے ۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے سقوط ڈھاکہ کی بات کے حوالے سے سوال پر ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پیچھے مڑکر دیکھا تو پیچھے 70 سال ہیں اور پیچھے ہی دیکھتے رہ جائیں گے ٗگذشتہ 15سال دیکھیں، فوج کی قربانیاں دیکھیں اور آگے دیکھیں۔ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ بہت ساری باتیں اسٹیٹ سیکرٹ ہوتی ہیں، بہت سی باتیں وزیراعظم اور آرمی چیف کو ہی پتہ ہوتی ہیں

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…