پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

پیشی کے موقع پر اسحاق ڈار عقبی گیٹ سے عدالت میں داخل ،اس گیٹ سے کن کن افراد کو اندر بھیجا جاتا ہے؟حیران کن انکشاف

datetime 27  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار کو احتساب عدالت میں پیشی کے لئے جوڈیشل کمپلیکس کے اس عقبی گیٹ سے داخل کیا گیا جس گیٹ سے انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیشی کیلئے ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق قتل کیس کے ملزمان کو عدالت لایا جاتا تھا۔ بدھ کو سینیٹراسحاق ڈار احتساب عدالت پیشی کیلئے جوڈیشل کمپلیکس جی الیون پہنچے تو گیٹ پر موجود سکیورٹی اہلکاروں نے ان کو اندر نہیں جانے دیا

جس پر وہ واپس اپنی گاڑی میں بیٹھ گئے اور انتظار کرتے رہے اس دوران سکیورٹی پر مامور افسر نے انہیں عقبی دروازے سے احاطہ عدالت داخل ہونے کے لئے کہا اور وہ جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی دروازے سے احاطہ عدالت پہنچے۔ واضح رہے کہ جوڈیشل کمپلیکس میں احتساب عدالت سمیت انسداد دہشت گردی اور سپیشل سنٹرل جج کی عدالت موجود ہے ایم کیو ایم کے رہنما عمران فاروق قتل کیس میں گرفتار ملزمان کو بھی انسداد دہشت گردی ی عدالت پیشی کے لئے جوڈیشل کمپلیکس کے عقبی دروازے سے داخل کیا جاتا تھا اور بکتر بند گاڑی میں یہ ملزمان عقبی دروازے سے ہی واپس روانہ ہوتے تھے۔

دریں اثنا وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ دیکھنا ہوگا کہ نیب نے ریفرنس قانون کے مطابق بنائے یا کسی کے حکم پر ‘ اسحاق ڈار پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا کوئی الزام نہیں ہے‘ ریفرنس نیب قوانین کے مطابق بنتے تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا‘ اسحاق ڈار کے اگر اثاثوں میں اضافہ ہوا تو سالوں میں بھی اضافہ ہوا‘ اسحاق ڈار کے اثاثے ایک سال میں اچانک نہیں بڑھ گئے‘ فرد جرم عائد کرنے کے لئے سات دن کا وقت دیا جاتا ہے لیکن اسحاق ڈار پر دو دن میں فرد جرم عائد کی گئی ہے۔بدھ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ عدالت کے باہر کی سکیورٹی اسلام آباد انتظامیہ کے پاس ہے۔ عدالت کی ہدایت کے مطابق ہم تعاون کرتے ہیں رپورٹر پر تشدد کا واقعہ کسی کی ویڈیو بنانے پر پیش ایا رپورٹر پر تشدد کی انکوائری کررہے ہیں دیکھنا ہوگا کہ نیب نے ریفرنس کسی کے حکم یا قانون کے مطابق بنائے۔ اسحاق ڈار پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا کوئی الزام نہیںہے۔ یقینی بنائیں گے کہ آزادی رائے متاثر نہ ہولیکن یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ عدالتی کاروائی متاثر نہ ہو۔ نیب نے ریفرنس میں لکھا کہ چونکہ عدالت عایہ کا یہ حکم ہے اس لئے یہ ریفرنس بنا رہے ہیں۔ ریفرنس نیب قوانین کے مطابق بنتے تو کسی کو اعتراض نہ ہوتا۔ اسحاق ڈار کے اگر اثاثوں میں اضافہ ہوا ہے تو سالوں میں بھی اضافہ ہوا ہے یہ نہیں کہ ایک سال میں ہی اثاثوں میں اضافہ ہوگیا۔ جن آٹھ سالوں میں وہ جلا وطن رہے اس آمدنی کو بھی گنا جانا چاہئے۔ ان پر کرپشن کا کوئی الزام نہیں بغیر الزام کے ریفرنس ان پر بنا دیا گیا فرد جرم لگانے میں جلدی کی گئی ہے۔

 

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…