پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

مشرف دور کی ترمیم تاحال صدارتی انتخاب کے قوانین کا حصہ

datetime 18  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) سزا یافتہ، مخبوط الحواس، اور سرکاری ملازمین کو صدارتی الیکشن کا حصہ بننے کی اجازت دینے کے حوالے سے الیکشن قوانین میں ہونے والی متنازع ترمیم تاحال جوں کی توں موجود ہے۔ یہ قانون سازی سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی خوشنودی کے لیے ایک دہائی قبل کی گئی تھی۔الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد کے مطابق اگر صدر ممنون حسین اپنے منصب سے

دستبردار ہوتے ہیں تو یہ ترمیم برطرف ہونے والے وزیراعظم نواز شریف کو اصولی طور پر صدر کے عہدے کے لیے کھڑے ہونے کی اجازت دے گی۔ای سی پی نے ستمبر 2007 میں صدارتی انتخابات کے حوالے سے اس قانون میں ترمیم کی جس کے بعد صدارتی امیدواروں کے لیے نااہلی کی شرائط ختم ہوگئیں۔یہ ترمیم 6 اکتوبر 2007 کے انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آئی تھی، جبکہ ان انتخابات میں جنرل پرویز مشرف نے باآسانی کامیابی حاصل کی تھی۔اہم ترین اپوزیشن رہنماؤں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کی جلاوطنی کی وجہ سے 2007 کے انتخابات کے نتائج پہلے ہی عیاں تھے۔خیال رہے کہ اس وقت کے وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیرافگن نیازی (مرحوم) کے بتانے سے قبل صدارتی انتخاب کے قوانین میں ہونے والی اس ترمیم کی موجودگی کو ای سی پی کی جانب سے خفیہ رکھا گیا تھا۔ترمیم سے قبل صدارتی الیکشن کے قوانین کے کالعدم سیکشن 5(3)(اے) کے تحت رٹرننگ افسران کو اختیار حاصل تھا کہ اگر انہیں کوئی امیدوار آئین کے مطابق صدر کے انتخاب کے لیے نااہل لگتا ہے تو وہ سمری انکوائری کرتے ہوئے کاغذات نامزدگی کو مسترد کردیں تاہم اس حصے کو قانون سے ہٹا دیا گیا۔جلد بازی میں کی جانے والی اس ترمیم کے بعد جواز پیش کیا گیا تھا

کہ اس کا مقصد قانون کو 2002 اور 2005 کے سپریم کورٹ کے فیصلوں کے مطابق کرنا تھا۔واضح رہے کہ جنرل پرویز مشرف کے خلاف جا کر عدلیہ عدلیہ بحالی تحریک کی سربراہی کرنے والے سابق چیف جسٹس افتخار محمد ان سپریم کورٹ کی ان دونوں بینچز کا حصہ تھے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے دی گئی یہ دلیل متعدد مبصرین کو مطمئن کرنے میں ناکام رہی تھی کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کی جانے والی اس تبدیلی کے لیے اتنا انتظار کیوں کیا گیا اور اسے متنازع صدارتی الیکشن سے صرف چند ہفتوں پہلے ہی کیوں نافذ کیا گیا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…