پیر‬‮ ، 09 مارچ‬‮ 2026 

عمران خان کی کون سی بات اچھی لگتی ہے؟ مریم نواز نے سوال کا حیرت انگیز جواب دیدیا

datetime 17  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) صحافی و اینکر پرسن منصور علی خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں مریم نواز سے سوال کیا کہ پوری انتخابی مہم میں عمران خان کو آپ نے بہت زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا ہے، آپ نے ان کے لیے مہرے کا لفظ بھی استعمال کیا مگر ڈاکٹر یاسمین راشد کے حوالے سے آپ نے کوئی زیادہ تنقید نہیں کی، ان پر تنقید کے حوالے سے کوئی بات آپ کو ملی نہیں یا پھر عمران خان کے حوالے سے نفرت بہت زیادہ ہے،

اس کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ اگر میں تنقید چاہتی تو میرے پاس بہت زیادہ مواد ایسا ہے جس پر میں بات کر سکتی تھی، جس طرح یہ میری والدہ کو نااہل کرانے کے لیے کورٹ میں گئے ہیں اور ان کے پیپر مسترد کرانے کے لیے کورٹ میں گئے ہیں، میں نے ایسا نہیں کیا کیونکہ میری والدہ کے خلاف جو امیدوار ہیں میرا ان سے مقابلہ نہیں ہے اور مسلم لیگ (ن) کا ان سے مقابلہ نہیں ہے اور جو پارٹی کے ان کے سربراہ ہیں ان کی پوری پارٹی ہے، ہماری جو کوشش ہے ہمارا جو نقطہ نظر ہے وہ ان سب کے دماغوں کو ملا کر بھی ان سے بڑا ہے، ہماری کوشش ان کی سمجھ سے بھی بڑی ہے، وہ ابھی تک 90 کی دہائی کی سیاست میں جی رہے ہیں، ان کو یہ نہیں پتہ کہ نہ صرف وقت بدل گیا ہے بلکہ سیاست بھی بدل گئی ہے، جس طرح کی وہ سیاست کر رہے ہیں وہ صرف ایک دھبے سے زیادہ کچھ نہیں ہے، کبھی انگلی کے پیچھے چھپنا، کبھی دھاندلی کے پیچھے چھپنا، کبھی کورٹ کے پیچھے چھپنا، کبھی الیکشن ٹربیونلز کے پیچھے چھپنا، مسلم لیگ کو نہ اس قسم کی سیاست کی ضرورت ہے اور نہ ہی اس قسم کے ہتھکنڈوں کی ضرورت ہے، یہ وہ لوگ کرتے ہیں جن کو پتہ ہے کہ میدان میں انشاء اللہ شکست ہو گی تو مجھے اس قسم کی تنقید کی ضرورت نہیں محسوس ہوئی، میں نہ صرف مثبت سوچتی ہوں بلکہ آپ نے اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھا،

میں نے کبھی نہ سوچا نہ کبھی مجھے نام لینے کی ضرورت کبھی محسوس ہوئی، منصور علی نے سوال کیا کہ عمران خان کی کبھی کوئی اچھی کوالٹی آپ نے دیکھی ہو، اس کے بارے بتائیں تو اس کے جواب میں مریم نواز نے کہا کہ میں ان کے بارے میں کوئی بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ میری نظر میں وہ کوئی ایشو نہیں ہیں، ہمارے ایشو بڑے ہیں جس کے لیے ہم جدوجہد کر رہے ہیں، میری نظر میں ان کی کوئی اہمیت نہیں ہے، نہ ہی وہ کوئی ایسی طاقت ہیں کہ جس کے بارے میں بات کی جائے۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…